اولمپکس:امریکہ چوالیس طلائی تمغوں کے ساتھ سب سے آگے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 12 اگست 2012 ,‭ 23:07 GMT 04:07 PST

لندن میں دو ہزار بارہ کے اولمپکس مقابلے اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور سنیچر کو مقابلوں کے پندرہویں دن پندرہ مختلف کھیلوں میں مزید بتیس طلائی تمغوں کا فیصلہ ہوگیا۔

کلِک لندن اولمپکس 2012 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

مجموعی طور پر اب تک لندن اولمپکس میں کل تین سو دو میں سے دو سو ستاسی طلائی تمغے جیتے جا چکے ہیں اور تمغوں کی فہرست میں امریکہ چوالیس طلائی تمغوں کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ چین اڑتیس اور برطانیہ اٹھائیس طلائی تمغے جیت چکے ہیں۔

لندن اولمپکس کا پندرہواں روز

امریکن ایتھلیٹس نے ریلے ریس میں شاندار کارکردگی دکھائی

لندن اولمپکس کے پندرہویں دن امریکہ نے باسکٹ بال، ایتھلیٹکس اور ڈائیونگ میں مزید تین طلائی تمغے جیت کر اپنے مجموعی تمغوں کی سنچری مکمل کر لی ہے۔

خواتین کی چار ضرب چار سو میٹر ریلے ریس میں امریکی ٹیم کی فتح کے نتیجے میں میڈل ٹیبل پر امریکہ کی برتری میں سنیچر کے پہلے طلائی تمغے کا اضافہ ہوا۔

امریکہ کو دن کا دوسرا گولڈ میڈل مردوں کی دس میٹر سپرنگ بورڈ ڈائیونگ میں ڈیوڈ بوڈیا نے دلایا۔ چین کے کیو بو نے اس مقابلے میں نقرئی اور برطانیہ کے ٹم ڈیلی نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

خواتین کے باسکٹ بال مقابلوں میں امریکی ٹیم نے فرانس کو ہرا کر امریکہ کا چوالیسواں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

پندرہویں دن کا سب سے اہم واقعہ مردوں کی 4x100 میٹر ریلے دوڑ میں جمیکن ٹیم کا نیا عالمی ریکارڈ تھا۔ یوسین بولٹ، یوہان بلیک، نیسٹا کارٹر اور مائیکل فریٹر پر مشتمل اس ٹیم نے مقررہ فاصلہ چھتیس اعشاریہ آٹھ چار سیکنڈ میں طے کر کے نہ صرف طلائی تمغہ جیتا بلکہ نیا عالمی اور اولمپک ریکارڈ بھی قائم کیا۔

پندرہویں دن میزبان برطانیہ نے بھی مزید تین طلائی تمغے حاصل کیے جس کے بعد اس کے گولڈ میڈلز کی تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی ہے۔

سنیچر کو مردوں کے دو سو میٹر کے کایاک سنگل مقابلے میں برطانیہ کے میک ویر ایڈ نے سونے کا تمغہ جیتا۔ اس کے بعد شام کو پانچ ہزار میٹر کی دوڑ میں برطانیہ کے مو فرح نے ان کھیلوں میں انفرادی طور پر دوسرا اور اپنے ملک کے لیے ستائیسواں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ فرح اس سے قبل دس ہزار میٹر کی دوڑ میں بھی اول رہے تھے۔

دن کا تیسرا اور مجموعی طور پر اٹھائیسواں گولڈ میڈل باکسر لیوک کیمبل نے بیٹن ویٹ درجہ بندی میں آئرش باکسر کو گیارہ کے مقابلے میں چودہ پوائنٹس سے شکست دے کر حاصل کیا۔

جمیکن ٹیم نے ریلے ریس میں واضح فرق سے نیا عالمی اور اولمپک ریکارڈ بنایا

میڈل ٹیبل پر دوسرے نمبر پر موجود چین سنیچر کو مزید ایک گولڈ میڈل ہی حاصل کر سکا اور یہ میڈل اسے زو شمنگ نے مردوں کے لائٹ فلائی ویٹ مقابلے میں تھائی باکسر کو شکست دے کر دلوایا۔

ہاکی میں مردوں کے فائنل میں دفاعی چیمپیئن جرمنی نے ہالینڈ کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ کانسی کے تمغے کے لیے کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے میزبان برطانیہ کو تین کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دی۔

خواتین کے ہاکی کے مقابلوں کے فائنل میں نیدرلینڈز نے ارجنٹینا کو صفر کے مقابلے دو گول سے ہراکر طلائی تمغہ جیت لیا۔ اولمپکس کی تاریخ میں خواتین کی ہاکی میں نیدرلینڈز کا یہ تیسرا طلائی تمغہ ہے۔ ان مقابلوں میں ارجنٹینا نے چاندی اور برطانیہ نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

مردوں کے کُشتی کے مقابلوں میں بھارت کے انتیس سالہ پہلوان یوگیشور دت نے جنوبی کوریا کے پہلوان کو کشتی کے ساٹھ کلوگرام فری اسٹائل مقابلے میں شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔ یہ ان کھیلوں میں بھارت کا کانسی کا چوتھا اور مجموعی طور پر پانچواں تمغہ ہے۔

اس درجہ بندی میں آذربائیجان کے طغرل اصغروف نے طلائی جبکہ روس کے پہلوان نے نقرئی تمغہ حاصل کیا۔ چوراسی کلوگرام درجہ بندی میں طلائی تمغہ پورٹو ریکو جبکہ ایک سو بیس کلوگرام کی درجہ بندی میں یہ اعزاز ازبکستان کے پہلوان کو ملا۔

یوگیشور دت نے کشتی کے ساٹھ کلوگرام فری اسٹائل مقابلے میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا

ایرانی پہلوان 120 کلوگرام مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیت سکے اور یوں ان کھیلوں میں ایران کے تمغوں کی تعداد بارہ تک پہنچ گئی جن میں سے چار طلائی، پانچ نقرئی اور تین کانسی کے تمغے ہیں۔

مردوں کے فٹبال مقابلوں کے فائنل میں میکسکو نے برازیل کو دو کے مقابلے میں ایک گول سے ہرا دیا۔ یہ میکسکو کا فٹبال میں پہلا اولمپک طلائی تمغہ ہے۔

سنیچر کو دن کا پہلا طلائی تمغہ روس کے سرگئی کردیاپکن نے پچاس کلومیٹر واک میں جیتا، آسٹریلوی ٹالن جیرڈ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ چین کے تیان فن سی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

خواتین کی بیس کلومیٹر کی واک ریس کا فائنل بھی روس کی ہی الینا یشمانووا نے ورلڈ ریکارڈ وقت میں جیتا۔ لندن کے مرکز میں ہونے والی اس ریس کو دیکھنے کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس دلچسپ دوڑ کے قوانین کے مطابق ریس کے دوران شرکاء کا کم از کم ایک پیر زمین کو چھو رہا ہونا چاہیے۔


ہاکی میں بھارت کا آخری نمبر

لندن اولمپکس میں ہندوستانی ہاکی ٹیم کا سفر جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔

اولمپک کھیلوں میں ہاکی میں آٹھ طلائی تمغہ جیتنے والا بھارت اس مرتبہ آخری یعنی بارہویں نمبر پر رہا ہے۔

اولمپکس ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار بھارت اپنے سارے میچ ہارا ہے اور یہ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی اولمپکس میں سب سے خراب کارکردگی ہے۔

اس سے پہلے سنہ انیس سو چھیانوے کے اٹلانٹا اولمپکس میں ہندوستانی ہاکی ٹیم آٹھویں نمبر پر آئی تھی۔

سنیچر کو گیارہویں اور بارہویں پوزیشن کے میچ میں جنوبی افریقہ نے بھارت کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی۔

بھارت کی جانب سے سندیپ سنگھ نے پنالٹی کارنر پر گول کیا اور میچ کے آخری منٹ میں ایک گول دھرم ویر سنگھ نے کیا۔

بھارتی ہاکی ٹیم نے آخری بار سنہ انیس سو اسّی کے ماسکو اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور اس کے بعد ٹیم کوئی تمغہ نہیں جیت پائی۔

اور تو اور بھارتی ہاکی ٹیم بیجنگ اولمپک کے لیے كوالیفائی بھی نہیں کر پائی تھی۔

پندرہویں روز کی تصاویر

پندرہویں روز کی تصاویر

میڈلز کا تفصیلی ٹیبل



لائیو: اولمپکس 2012

اس مواد کو دیکھنے کے لیے آپ کے براؤزر کا جاوا سکرپٹ کو چلانا ضروری ہے

(BBC Sport Olympics (In English
رینک ملک طلائی تمغے چاندی کے تمغے کانسی کے تمغے کل تمغے

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔