اولمپکس:ندزیا اوستاپچک سے طلائی تمغہ واپس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بیلاروس کی اکتیس سالہ اوستاپچک نے پچھلے ہفتے شارٹ پٹ کے مقابلے میں گولا اکیس اعشاریہ تین چھ میٹر کے فاصلے پر اپنی تیسری کوشش میں پھینکا تھا۔

عالمی اولمپکس کمیٹی نے بیلاروس کی ندزیا اوستاپچک کا طلائی تمغہ واپس لینے کا اعلان کیا ہے کیونکہ وہ ممنوعہ ادویات کا ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے اولمپکس میں شاٹ پٹ کے مقابلوں میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

اکتیس سالہ اوستاپچک نے پچھلے ہفتے شارٹ پٹ کے مقابلے میں گولا اکیس اعشاریہ تین چھ میٹر کے فاصلے پر اپنی تیسری کوشش میں پھینکا تھا۔

ان سے تمغہ واپس تب لیا گیا جب ان کے دیے گئے پیشاب کے نمونے میں ایک اینابالک ایجنٹ میٹینولون پایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیوزی لینڈ کی ویلری ایڈمز جن کو چاندی کا تمغہ ملا تھا وہ طلائی تمغے کی حقدار ٹہری ہیں۔ اسی طرح روس کی یوگینیا کولوڈکو اب چاندی اور چین کی لیجیاؤ گونگ کانسی کے تمغے کی حقدار ٹھریں۔

عالمی اولمپکس کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ندزیا اوستاپچک’ کو پہلی بار پانچ اگست کو پیشاب کا نمونہ دینے کا کہا گیا تھا‘۔

’انہوں نے اگلے دن خواتین کے شارٹ پٹ مقابلے میں حصہ لیا جہاں انہوں نے اول پوزیشن حاصل کی جس کی وجہ سے ان کو مقابلے کے فوراً بعد پیشاب کا نمونہ فراہم کرنے کا کہا گیا۔

’ان دونوں فراہم کردہ نمونوں میں میٹینولون کی موجودگی ملی جو کہ دو ہزار بارہ کی جاری کردہ ممنوعہ ادویات کی فہرست میں درج کی گئی ہے‘۔

اوستاپچک نے دوہزار دس کے یورپین چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا لیکن دو ہزار گیارہ کی عالمی چیمپئن شپ میں نیوزی لینڈ کی ایڈمز کی بعد دوسرے نمبر پر آئیں تھیں۔

ممنوعہ ادویات کے خلاف لندن اولمپکس میں اولمپک تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی عمل میں آئی تھی۔

منتظمین نے شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو متنبہ کیا تھا کہ ایک سو پچاس سائنسدان چھ ہزار نمونے لندن اولمپکس کے آغاز سے لے کر پیرا اولمپکس کے اختتام تک لیں گے۔

ہر وہ کھلاڑی جنہوں نے تمغہ جیتا ہے ان کا ٹیسٹ لازمی لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی ڈسکس تھرور بریٹ مورس نے اوستاپچک پر ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کا الزام لگانے پر اپنے ٹوئٹر فالورز سے معافی مانگی تھی۔

اسی بارے میں