مصری اولمپک دستہ، عریاں فلمیں اور شیشہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 17:50 GMT 22:50 PST

مصر کی ریسلنگ ٹیم کے دو کھلاڑی اپنے دوسرے راؤنڈ کے مقابلوں میں حاضر ہی نہ ہوئے

لندن اولمپکس میں دو نقرئی تمغے جیتنے والی مصری دستے کے وطن واپس پہنچنے پران کا استقبال کرنے والا تو کوئی نہ تھا لیکن ان سے پوچھ گچھ کے لیے اہلکار ضرور وہاں موجود تھے۔

دو ہزار بارہ کے مقابلوں کے دوران مصری دستے کے ساتھ کئی ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے ملک میں ایک بھرپور سکینڈل کا روپ دھار لیا اور اب اس سلسلے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔

مصری ٹیم اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے جس ہوٹل میں ٹھہری تھی اسے اچانک اس وقت مکمل طور پر خالی کرنا پڑا تھا جب مصری فٹبال ٹیم کے ارکان میں سے ایک کے کمرے سے دھواں نکلنے لگا۔

مصری فٹبالر جن کمروں میں قیام پذیر تھے انہیں میں سے ایک میں ’شیشہ‘ یعنی حقہ پیا جا رہا تھا جس کے سبب دھواں اٹھا اور پورے ہوٹل میں فائر الارم بج پڑے۔

مصر کی ریسلنگ ٹیم کے دو کھلاڑی اپنے دوسرے راؤنڈ کے مقابلوں میں حاضر ہی نہ ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنا نظام الاوقات یا شیڈول دیکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اس بارے میں بتایا۔

یہی نہیں مصری ٹیم کو ’نائیکی‘ کے نقلی جوتے اور دیگر سامان فراہم کیا گیا نتیجتاً ہنگامی بنیاد پر ’نائیکی‘ کو انہیں اصل ’کٹ‘ فراہم کرنا پڑی۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ فٹبال ٹیم کے ایک کھلاڑی کی وجہ سے مصریوں کو سات سو پاؤنڈ کا اضافی بل بھرنا پڑا کیونکہ موصوف ’عریاں‘ فلمیں دکھانے والے کئی چینل مستقل دیکھتے رہے۔

مصر کی طرف سے اولمپک مقابلوں میں شرکت کرنے والا مصری تاریخ کا یہ سب سے بڑا دستہ تھا لیکن اسے چوروں کی طرح منہ چھپا کر واپس پہنچنا پڑا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔