ریو کے لیے لندن اولمپکس سے دس سبق

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 15:31 GMT 20:31 PST

ریو ڈی ـنیرو کا مرکانہ سٹیڈیم جہاں ریو اولمپکس منعقد ہو گے ابھی زیر تکمیل ہے۔

لندن اولمپکس ختم ہو چکے ہیں اور اولمپکس کا پرچم اب ریو ڈی جنیرو کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں اگلے اولمپکس منعقد ہوں گے۔

ریو جنوبی امریکہ کا پہلا شہر ہو گا جہاں اولمپکس منعقد ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ ریو اولمپکس کے انعقاد کے معاملے میں لندن سے کیا سبق سیکھ سکتا ہے؟

تیاری پوری رکھیں

ریو کو تمام بڑے منصوبے بروقت مکمل کرنے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی پورا خیال رکھنا ہوگا تاکہ کھلاڑیوں، تماشائیوں اور حکام کی طرف واہ واہ ہو۔

برازیل دوہزار چودہ میں فٹبال کے ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ماراسانہ سٹیڈیم جو ورلڈ کپ اور اولمپکس کے لیے بنایا جارہا ہے، ابھی تیار نہیں۔ البتہ اولمپکس کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس پر کام وقت سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔ تاہم لندن آنے والے بعض برازیلی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ آخری لمحات تک اس سٹیڈیم کی تکمیل پر نظر رکھیں گے کیونکہ ان کے ملک میں بہت سارے کام آخری وقت میں ہوتے ہیں۔

ٹکٹنگ کا مسئلہ نہ ہو

لندن اولمپکس کے دوران خالی نشستوں کا مسئلہ بہت موضوع بحث رہا۔

لندن اولمپکس کے ابتدائی دنوں میں سٹیڈیم کی خالی سیٹیں بہت بڑا موضوعِ بحث تھیں خاص طور پر جب بہت سارے لوگ کھیل دیکھنا چاہ رہے تھے۔ لندن کے کھیلوں کے معاملے میں سب سے زیادہ مقبول کھیلوں کے ٹکٹ مقابلے شروع ہونے سے بہت پہلے ہی ختم ہو گئے تھے جس پر لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ لندن اولمپکس پر دوسرا بڑا دھبا ٹکٹوں کا رات بہت دیر سے آن لائن اجرا تھا۔

رضارکار تیار کریں

لندن میں اولمپکس کے رضاکاروں کی سب نے تعریف کی تھی جنہیں رہنمائی سے لے کر لوگوں کا خیال رکھنے اور مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ کسی بھی ملک کے پاس اس معاشی بحران کے دوران خرچ کرنے کے لیے وافر پیسہ نہیں ہے۔ ستر ہزار مفت میں کام کرنے والے کارکنوں کی فوج نے لندن میں تمام کاموں میں امداد کی اور کھیلوں کو ممکن بنایا۔ اگر ریو بھی اس کو اپنے انداز میں دہرائے تو اچھا ہو گا۔

کھیلوں میں سرمایہ کاری کریں

یہ تجویز لندن اولمپکس کے منتظم اعلیٰ لارڈ کو کی طرف سے ہوگی اور یہ برطانوی کھلاڑیوں کے پینسٹھ تمغوں کی صورت میں واضح ہے۔ لارڈ نے کامیابی کے لیے چار اجزا پر مشتمل ایک نسخہ تیار کیا تھا جس میں کھیلوں کی عالمی معیار کی انتظامیہ، عالمی معیار کی کوچنگ، ٹیلنٹ کی افزائش اور کھیلوں میں اعلیٰ اور متوقع سرمایہ کاری۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ کسی ملک کے لیے عیاشی ہے لیکن لارڈ کو کے مطابق یہی قابلِ عمل ہے۔

ہر ایک کو شامل کریں

کارڈف کے ملینیم سٹیڈیم میں مردوں اور خواتین کے فٹبال مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ مختلف جائزوں سے ملک کے دوسرے حصوں میں رہنے والے لوگوں کی لندن اولمپکس میں دلچسپی کے بارے میں ملا جلا تاثر ملا۔ برطانیہ جیسے نسبتاً چھوٹے ملک میں بھی یہ مشکل تھا کہ ملک کے چاروں حصوں کو کھیلوں کا حصہ بنایا جائے۔ کارڈف، گلاسگو، کوونٹری، نیوکاسل، مانچسٹر اور ویمبلے میں فٹبال کے انعقاد سے اس سلسلے میں بہت مدد ملی۔

برازیل ایک بہت وسیع و عریض ملک ہے جس میں مختلف نوعیت کے معاشی اور معاشرتی معیارات ہیں جس کی وجہ سے ریو کا کام بہت بڑھ جائے گا اور شاید مختلف شہروں میں فٹبال کا انعقاد ناکافی ہو۔ برازیل کو اس معاملے میں مزید کام کرنا ہو گا۔

کھیلوں کے انعقاد کی روح سامنے لائیں

برازیل کے لیے یقیناً یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ برازیل کارنیوال میلوں، سامبا، اور عالمی معیار کے کھیلوں کا گڑھ ہے۔ لندن اولمپکس کی روح حسِ مزاح تھی جسے کہیں کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں ایک انوکھے انداز میں پیش کیا گیا اور کہیں رضاکاروں کے ہلکے پھلکے رویے اور برتاؤ میں۔ میدان میں مو فرح یوسین بولٹ کے انداز کو اپنے انداز میں پیش کرتے ہوئے نظر آیا۔ ریو کو اپنی شناخت تلاش کرنے اور اسے مجتمع کر کے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

جدید چہرہ پیش کریں

لندن اولمپکس کے لیے ملکۂ برطانیہ تک نے عوام کے سامنے اپنی شخصیت کا ایک ان دیکھا روپ پیش کیا۔ لندن کے کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں ملکہ جیمز بانڈ کے ساتھ ہیلی کاپٹر سے میدان میں اتریں اور تقریب کے ہدایتکار ڈینی بوئل نے ٹم برنرز لی سے ٹیکسٹنگ تک حال اور مستقبل کو پیش کیا۔

افتتاحی تقریب کے موقع کے اندازِ تعمیر جدید، خوب، چیلنجنگ، مستقل اور قابلِ تجدید چیزوں پر مشتمل تھا۔ لندن اولمپکس کا لوگو اور الفاظ نئی طرز کے تھے اور کھیلوں کا مقصد نئی نسل کو متاثر کرنا تھا۔

برازیلی صحافیوں کے مطابق ریو دو ہزار سولہ کا چہرہ صرف سامبا اور سیکوئن نہیں ہو سکتے، بلکہ برازیل کو ان کھیلوں کے انعقاد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ذریعے دنیا کو اپنا نیا اور جدید چہرہ دکھانا چاہیے۔

اپنے تمغوں کے مواقع پہلے رکھیں

عالمی اولمپکس کمیٹی کے سربراہ جیکوئس روگ نے لندن کے کھیلوں کی انتظامیہ کو مشورہ دیا تھا کہ ایسے کھیلوں کا انعقاد پہلے کریں جن میں برطانوی کھلاڑیوں کے تمغہ جیتنے کے مواقع یقینی ہوں، تاکہ عوام کی دلچسپی کھیلوں میں برقرار رہے۔ جب لزی آرمیسٹیڈ نے برطانیہ کا پہلا طلائی تمغہ کھیلوں کے دوسرے دن جیتا تھا تب لوگوں کے حوصلے بلند ہو گئے تھے۔ بعد میں تمغوں کے حساب کتاب کا زیادہ پتا نہیں چلتا۔ روگ نے یہی مشورہ ریو کی انتظامیہ کو بھی دیا ہے۔

آمدورفت اور سلامتی کو یقینی بنائیں

یہ بنیادی طور پر انتظامی معاملہ ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے کم اہمیت کا حامل نہیں۔

لندن اولمپکس کے آغاز سے پہلے سب سے بڑے دردِ سر یہی تھے۔ آخر میں آمدورفت تو صحیح رہی سوائے ٹیوب میں کچھ تاخیر کے۔

ریو کا پہاڑی جغرافیہ اور برازیل کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت اور جرائم، قتل اور منشیات کی زیادہ شرح اپنی ذات میں خود ایک بڑا امتحان ہوگا۔

اپنے جھنڈے کے رنگ ہر طرف بکھرا دیں

دو ہفتوں پر مشتمل لندن اولمپکس کے دوران بہت سے برطانوی شائقین نے ہر طرف برطانوی جھنڈے لہراتے ہوئے دیکھے۔اس کی وجہ اولمپکس اور ملکۂ برطانیہ کے دورِ حکومت کی ساٹھ سالہ تقریبات کا ایک ہی سال میں اکٹھے رونما ہونا تھا۔ ڈائمنڈ جوبلی تقریبات سے آغاز کے بعد ان جھنڈوں کے استعمال کا سلسلہ مشعل کے سفر اور پیرالمپکس میں بھی جاری رہے گا۔

جوتوں، ٹوپیوں اور دوسری کئی چیزوں کی فروخت سے بہت سارے پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ خاص طور پر جب معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہو تو یہ کاروبار ملک کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔