لارڈز ٹیسٹ: جنوبی افریقہ کی پوزیشن مضبوط

آخری وقت اشاعت:  اتوار 19 اگست 2012 ,‭ 21:48 GMT 02:48 PST

جنوبی افریقہ کو انگلینڈ کے خلاف ایک سو انتالیس رنز کی برتری حاصل ہے اور دوسری اننگز میں اس کی سات وکٹیں باقی ہیں

جنوبی افریقہ نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر دوسری اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر ایک سو پینتالیس رنز بنا لیے۔

تیسرے دن کے اختتام پر ہاشم آملہ ستاون اور ڈیل سٹین بغیر کوئی رن بنائے کریز پر موجود تھے۔

جنوبی افریقہ کو انگلینڈ کے خلاف ایک سو انتالیس رنز کی برتری حاصل ہے اور دوسری اننگز میں اس کی سات وکٹیں باقی ہیں۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پہلی اننگز کی طرح جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز کا آغاز بھی اچھا نہ تھا اور ایک موقع پر پچاس رنز کے مجوعی سکور پر اس کے دو کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔

جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ اور کیلس نے دوسری اننگز میں تیسری وکٹ کی شراکت کے لیے اکاسی رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں سٹورٹ براڈ، سوان اور فِن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے پہلے انگلینڈ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو پندرہ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں بیر سٹو نے پچانوے اور ائین بیل نے اٹھاون رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے پہلی اننگز میں مورنی مارکل اور ڈیل سٹین نے چار چار جبکہ فلینڈ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو نو رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے فلینڈر اور ڈومی نے اکسٹھ رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے سٹیفن فِن نے چار، جیمز اینڈرسن نے تین اور سوان نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں جنوبی افریقہ کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

جمعرات کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔