لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کا ہدف تیس سو چھیالیس رنز

آخری وقت اشاعت:  پير 20 اگست 2012 ,‭ 20:33 GMT 01:33 PST

انگلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے مزید تین سو تیس رنز کی ضرورت ہے اور دوسری اننگز میں اس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں

انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر دوسری اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر سولہ رنز بنا لیے۔

چوتھے دن کے اختتام پر ائین بیل چار اور جوناتھن ٹراؤٹ چھ رنز بنا کر کریز پر موجود تھے۔

انگلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے مزید تین سو تیس رنز کی ضرورت ہے اور دوسری اننگز میں اس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں تین سو اکاون رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

پہلی اننگز کی طرح جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز کا آغاز بھی اچھا نہ تھا اور ایک موقع پر پچاس رنز کے مجوعی سکور پر اس کے دو کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ہاشم آملہ نے دوسری اننگز میں شاندار ایک سو اکیس رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کے دوسرے نمایاں بلے باز اے بی اے بی ڈویلیئرز رہے، انہوں نے تینتالیس رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے دوسری اننگز میں سٹیفن فِن نے چار، سٹورٹ براڈ، سوان اوراینڈرسن نے دو دو کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے پہلے انگلینڈ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو پندرہ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں بیر سٹو نے پچانوے اور ائین بیل نے اٹھاون رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے پہلی اننگز میں مورنی مارکل اور ڈیل سٹین نے چار چار جبکہ فلینڈ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں تین سو نو رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے فلینڈر اور ڈومی نے اکسٹھ رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے سٹیفن فِن نے چار، جیمز اینڈرسن نے تین اور سوان نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں جنوبی افریقہ کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

جمعرات کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔