آرمسٹرانگ کے اعزازات واپس، تاحیات پابندی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 13:29 GMT 18:29 PST
آرمسٹرانگ

آرمسٹرانگ کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں لیکن بے بنیاد الزامات سے عاجز آ چکے ہیں۔

امریکی سائیکلنگ کھلاڑی لینس آرمسٹرانگ کو ان کے سات ٹور ڈی فرانس اعزازات سے محروم کر دیا گیا ہے اور کھیلوں میں ممنوعہ ادویات سے متعلق امریکی ادارے یو ایس اے ڈی اے نے ان پر تاحیات پابندی بھی لگا دی ہے۔

یو ایس اے ڈی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ آرمسٹرانگ نے اپنی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے کارکردگی بڑھانے والی ادویات استعمال کی ہیں۔

آرمسٹرانگ اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں، تاہم انہوں نے الزام کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سائیکلنگ کے عالمی ادارے یو سی آئی نے آرمسٹرانگ کے اعزازات واپس لینے کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا۔

یو ایس اے ڈی اے نے کہا ہے کہ آرمسٹرانگ کی طرف سے اپنے خلاف الزامات کا دفاع نہ کرنے کے فیصلے کے باعث ان پر تاحیات پابندی لگا دی گئی ہے اور یکم اگست انیس سو اٹھانوے سے اب تک ان کا ریکارڈ حذف کر دیا گیا ہے۔

آرمسٹرانگ دو ہزار پانچ میں سائیکنلگ سے ریٹائر ہو گئے تھے لیکن دو ہزار نو میں وہ دوبارہ کھیل میں واپس آ گئے اور انہوں نے اس دوران ایسٹینا اور ریڈیوشیک ٹیموں کی نمائندگی کی۔

یو ایس اے ڈی اے نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انیس سو چھیانوے ہی سے ممنوعہ ادویات استعمال کرنا شروع کر دی تھیں جن میں خون بڑھانے والی دوا ای پی او، سٹیروئڈ اور انتقالِ خون شامل ہیں۔

پیر کے روز آرمسٹرنگ ایک امریکی وفاقی عدالت میں اپنے خلاف الزامات کو روکنے میں ناکام رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یو ایس اے ڈی اے نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے اور اس نے دوسرے سائیکل سواروں کو ترغیبات دی ہیں کہ وہ ان کے خلاف گواہی دیں۔

آرمسٹرانگ کو یو ایس اے ڈی اے کے الزامات کا مقابلہ جاری رکھنے کے لیے جمعے کے روز چھ بجے تک کا وقت دیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آرمسٹرانگ کے دس سابق ساتھی ان کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔

آرمسٹرانگ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کھیلوں میں ممنوعہ ادویات سے متعلق امریکی ادارے یو ایس اے ڈی اے کی طرف سے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا دفاع نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں لیکن بے بنیاد الزامات سے عاجز آ چکے ہیں۔

"ہمارے پاس واضح ثبوت ہیں کہ آرمسٹرانگ نے کارکردگی بڑھانے والی ادویات استعمال کی ہیں۔"

یوایس ڈی اے

چالیس سالہ سائیکلسٹ نے یو ایس اے ڈی اے کے مقدمے کے بارے میں کہا، ’میں ایک ایسے عمل میں شرکت کرنے سے انکار کرتا ہوں جو اس قدر یک طرفہ اور غیرمنصفانہ ہے۔‘

’ہر انسان کی زندگی میں ایسا موقع آتا ہے جب وہ کہتا ہے، ’بس بہت ہو گئی۔‘میرے لیے وہ وقت آ گیا ہے۔‘

ایک بیان میں یوایس ڈی اے نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس واضح ثبوت ہیں کہ آرمسٹرانگ نے کارکردگی بڑھانے والی ادویات استعمال کی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے، ’لینس آرمسٹرنگ کے خلاف ایک درجن سے زائد گواہوں کے بیانات کے بعد شواہد اکٹھے ہونا شروع ہوئے۔ ان گواہوں نے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بارے میں اپنے تجربے اور علم کی بنیاد پر شہادت دی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔