یووراج کا بلا یا براڈ کی گیند

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 13:12 GMT 18:12 PST
یووراج سنگھ

یووراج سنگھ نے مہلک بیماری کے بعد ایک بار پھر ٹیم میں واپسی کی ہے۔

جب سے انگلینڈ نے بھارت کو اپنے ہی میدانوں پر شکست فاش سے دوچار کیا ہے، تب سے ان دونوں ٹیموں کے درمیان میں خاصی تلخی رہی ہے۔

معاملہ چاہے آئی پی ایل کا ہو یا پھر کوئی اور دونوں ٹیموں کے درمیان سوشل میڈیا سے لے کر میدان تک ایک جنگ سا ہی ماحول نظر آیا ہے۔

اتوار کو جب یہ دونوں ٹیمیں کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گی اس وقت لوگ سنہ دوہزار سات ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کو یاد کر رہے ہوں گے جب یوراج نے چھ چھکے لگائے تھے۔

حالانکہ اس کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ میں کافی کچھ رونما ہو چکا ہے۔ ایک طرف بھارت جہاں ون ڈے کرکٹ میں عالمی چمپیئن بنا ہے وہیں دوسری طرف آئی سی سی رینکنگ میں چوٹی پر پہنچنے کے بعد نیچے بھی گرا ہے جبکہ انگلینڈ نے گزشتہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں فاتح رہا ہے۔

لیکن اتوار کے میچ میں صحافیوں سے لے کر کھیل کے شائقین تک کی نگاہیں دو ایسے کھلاڑیوں پر مرکوز رہیں گی جن کا آمنا سامنا دو ہزار سات میں جنوبی افریقہ میں کھیلے گئی عالمی کپ ہوا تھا۔ اور یہ کھلاڑی ہیں یووراج سنگھ اور سٹوئرٹ براڈ۔

کرس براڈ

کرس براڈ انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان ہیں۔

یوراج سنگھ نے کینسر جیسی مہلک بیماری سے نجات پانے کے بعد اسی مقابلے سے ٹیم انڈیا میں دوبارہ آئے ہیں جبکہ سٹوئرٹ براڈ اس ٹی ٹوئنٹی کی انگلینڈ ٹیم کے کپتان ہیں۔

واضح رہے کہ دو ہزار سات میں ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ایک یادگار مقابلہ اس وقت ہوا تھا جب يووراج نے براڈ کے ایک اوور کی چھ گیندوں پر چھ چھکے لگائے تھے۔

شاید آج تک براڈ اس ’بے عزتی‘ کا شکار رہے ہیں کیونکہ جمعہ کو ہوئی ایک پریس کانفرنس میں ایک بھارتی صحافی نے انہیں اس دور کی یاد دلائی تو براڈ نے پلٹ کے جواب دیا ’آپ کا سوال کیا ہے، وہ پوچھیں۔‘

حالانکہ اتوار کو کولمبو میں کھیلے جانے والے گروپ اے کے اس میچ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے کیونکہ بھارت اور انگلینڈ دونوں ہی اگلے دور یعنی سپر آٹھ میں جگہ بنا چکے ہیں۔

لیکن ان دونوں ٹیموں کے تیور کو دیکھتے ہوئے یہ مقابلہ بے حد اہم ہو جاتا ہے اور کوئی عجب نہیں کہ آگے چل کر یہ دونوں ٹیمیں پھر ایک دوسرے کے راستے میں ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔