ٹی ٹوئنٹی: بھارت آسٹریلیا کا سامنا کرے گا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 00:49 GMT 05:49 PST

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ورلڈ کلاس سپنر ہیں

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ ٹو کی چاروں ٹیمیں جمعہ کو سپرایٹ کا آغاز کر رہی ہیں۔

کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں پاکستان کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے جاری ہے جبکہ دوسرے میچ میں بھارتی ٹیم آسٹریلیا کا سامنا کرے گی۔

پاکستان نے پالیکلے میں کھیلے گئے گروپ میچوں میں نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کو شکست دی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پریماداسا کی وکٹ اسپنرز کو مدد دیتی ہے اور ان کی ٹیم میں ورلڈ کلاس اسپنرز موجود ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کی ٹیم اس سپرایٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

محمد حفیظ نے کہا کہ جنوبی افریقی ٹیم اپنے تیز بولرز پر انحصار کرتی ہے اور پاکستانی بیٹسمین اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔

جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈی ویلیئرز کہتے ہیں کہ پاکستان ایک خطرناک ٹیم ہے لیکن ماضی میں وہ پاکستان کو خراب کارکردگی دکھاتے ہوئے بھی دیکھ چکے ہیں ۔ جنوبی افریقی ٹیم اس کا مقابلہ اپنی قوت کے ذریعے کرے گی۔

اے بی ڈی ویلئرز سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے زیادہ تر بلے باز سعید اجمل کی بالنگ کو سمجھ پائے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ زیادہ تر بلے باز اس بات پر متفق ہوں گے کہ وہ سعید اجمل کی بالنگ کو سمجھ پاتے ہیں۔ ان کی بالنگ کی وڈیو دیکھیں گے اور پھر تجزیہ کریں گے لیکن جب بیٹنگ کے لیے جائیں گے تو انہیں قریب سے دیکھنے اور کھیلنے کا موقع ملے گا جو بالکل الگ بات ہوتی ہے۔

اے بی ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعید اجمل ایک عظیم بالر ہیں لیکن بنگلہ دیش کے خلاف وہ اتنے موثر نہیں رہے اور کچھ پہلو ایسے ہیں جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کی بالنگ پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس گروپ میں چاروں ٹیمیں ہم پلہ ہیں اور کوئی بھی ٹیم کسی کو بھی ہراسکتی ہے یہ ان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکٹ ٹرننگ ہوئی تو انہیں اس لیے حیرت نہیں ہوگی کیونکہ سری لنکا آتے وقت انہیں یہاں کی وکٹوں کا اچھی طرح پتہ تھا۔

اے بی ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم میں بھی ورلڈ کلاس اسپنرز ہیں اور وہ ان پر بھی انحصار کریں گے۔جنوبی افریقہ متوازن اور آل راؤنڈ ٹیم ہے۔

دوسری جانب بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ سپرایٹ مرحلے سے مقابلہ مزید سخت ہوجائے گا اور ہر میچ کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ان کی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف پانچ بالرز کےساتھ میدان میں اترے گی۔

انہوں نے کہا کہ اوپنرز کی جانب سے اچھے آغاز کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس سے حریف بالنگ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ایک بڑے اسکور تک پہنچنے کے لیے چاروں ٹاپ آرڈر بلے بازوں کا اچھا اسکور کرنا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا بھارت کے اوپنرز بہت اچھے ہیں جنہوں نے کئی اچھی شراکتیں قائم کی ہیں لیکن اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلوی اوپنرز واٹسن اور وارنر اچھی فارم میں ہیں اور انہیں جلد آؤٹ کرکے بڑے اسکور کو روکنا ہوگا۔

دھونی کا کہنا ہے کہ پریماداسا اسٹیڈیم کی وکٹ اسپنرز کے لیے سازگار ہے۔

آسٹریلوی کپتان جارج بیلی کہتے ہیں کہ ان کے بلے باز بھارتی اسپنرز کو اعتماد سے کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔