روایتی حریف بھارت اور پاکستان آمنے سامنے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 00:33 GMT 05:33 PST

دو حریف کپتان محمد حفیظ اور مہندر سنگھ دھونی

سری لنکا میں کھیلے جا رہے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں اتوار کو برصغیر کے دو روایتی حریف پاکستان اور بھارت مدِ مقابل ہوں گے جبکہ ایک دوسرے میچ میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔

پاکستان کے تیز رفتار بالر عمر گل جنہوں نے جنوبی افریقہ کے میچ میں سترہ گیندوں میں بتیس رن بنا کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا تھا، کہتے ہیں کہ بھارت کے خلاف میچ میں ٹیم ہمیشہ دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ٹیم پر بھی دباؤ ہوتا ہے۔

’ہم اپنی بہترین کارکردگی دیکھانے کی کوشش کریں گے۔ بھارت ایک اچھی ٹیم ہے لیکن ہم ایک دوسرے کی کمزوریوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس دن کوئی ٹیم کیسا کھیلتی ہے۔‘

دوسری جانب بھارت کے لیے یہ میچ اس وجہ سے بھی بہت اہم ہے کہ بھارت سپر ایٹ مرحلے میں اپنا پہلا میچ آسٹریلیا سے بری طرح ہار چکا ہے اور اسے اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جانے کے لیے پاکستان کو ہرانا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی ٹیم بھارت کو اس ٹورنامنٹ سے پہلے ہونے والے ایک وارم اپ میچ میں ہرا چکی ہے۔

لیکن پاکستان ماضی میں بھارت کو کبھی ایک روزہ عالمی مقابلوں میں یا ٹی ٹوئنٹی کے عالمی ٹورنامنٹوں میں شکست نہیں دے پایا ہے۔

بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کا اس میچ کے بارے میں کہنا ہے کہ اس قسم کی صورت حال ہمیشہ ٹیم کے لیے اچھی ہوتی ہے۔ ’غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہ ہو تو ٹیم کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانے میں مدد ملتی ہے۔‘

محمد حفیظ کی قیادت میں پاکستان کی موجودہ ٹیم اچھی فارم میں نظر آتی ہے۔ پاکستان نے سپر ایٹ کے اپنے پہلے مقابلے میں دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک جنوبی افریقہ کو سنسنی خیر مقابلے کے بعد دو وکٹوں سے شکست دے دی تھی۔

"غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہ ہو تو ٹیم کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانے میں مدد ملتی ہے۔"

بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی

اس کے برعکس بھارت کو آسٹریلیا کے ہاتھوں بڑی شکست اٹھانا پڑی تھی، اور بھارت کی مشہورِ زمانہ بیٹنگ لائن اپ آسٹریلیا کے خلاف بڑا سکور کرنے میں ناکام رہی تھی۔

اتوار کو ہونے والے میچوں میں اگر آسٹریلیا جنوبی افریقہ کے خلاف جیت جاتا ہے اور دوسری طرف پاکستان بھارت کے خلاف کسی بھی عالمی ٹورنامنٹ اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو دونوں سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔

بھارت کی ٹیم سنہ دو ہزار سات میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے پہلے عالمی کپ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ٹی ٹوئنٹی کے اگلے دو عالمی کپ مقابلوں سنہ دو ہزار نو اور سنہ ہزار دس میں سپر ایٹ کے مرحلے میں داخل ہونے میں بھی ناکام رہی تھی۔

بھارت اور پاکستان نے ان مقابلوں میں صرف دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں اور وہ دونوں سنہ دو ہزار ساتھ کے ٹی ٹوئنٹی عالمی میں کھیلے گئے تھے۔

ابتدائی میچوں میں ڈربن میں کھیلے جانے والا میچ برابر ہو گیا تھا لیکن بول آؤٹ میں بھارت کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔

اس کے بعد دونوں ٹیمیں جوہانسبرگ میں فائل میچ میں مدِمقابل تھیں جس میں ایک کڑے مقابلے کے بعد بھارت کو آخری گیند پر پانچ رن سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔