حفیظ کی قائدانہ صلاحیتوں پر اٹھتے سوالات

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 20:40 GMT 01:40 PST

پروفیسر کی عرفیت سے ٹیم میں پہچانے جانے والے محمد حفیظ بحیثیت پاکستانی کپتان اپنے پہلے بڑے امتحان میں ایسے ناکام ہوئے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی فیورٹ ٹیموں میں سے ایک سمجھی جانے والی پاکستانی ٹیم اب اس عالمی ایونٹ سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔

بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم کی انتہائی غیر پیشہ ورانہ کارکردگی نے جہاں ٹیم کے بارے میں بلند و بانگ دعووں کی قلعی کھول دی وہیں کئی بنیادی غلطیوں نے محمد حفیظ کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

محمد حفیظ کہتے ہیں کہ انہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اپنی بولنگ قوت کو دیکھ کر کیا تھا حالانکہ یہ بات سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارتی بیٹنگ لائن بڑے سے بڑا ہدف عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

اگر انہوں نے یہ سوچ کر کہ اس وکٹ پر دوسری بیٹنگ قدرے مشکل ہوگی پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی تو پھر انہیں مثبت انداز میں بیٹنگ کرنی چاہیے تھی اور پریشر کو صحیح طور پر ہینڈل کرنا چاہیے تھا۔

تین وکٹیں گرنے کے بعد انہوں نے جیسے خود پر پریشر طاری کرلیا تھا اور پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے اور جب وہ اٹھائیس گیندوں پر صرف پندرہ رنز بناکر ویرات کوہلی کی گیند پر غیرضروری طور پر کٹ کھیلتے ہوئے بولڈ ہوئے تو دسواں اوور جاری تھا۔

شاہد آفریدی کو ون ڈاؤن بھیجنے کے بارے میں محمد حفیظ کا یہ کہنا ہے کہ انہیں تیسرے نمبر پر اس لیے بھیجا گیا کہ وہ کھل کر بیٹنگ کر کے اپنا اعتماد بحال کریں اور بڑا سکور کر سکیں۔

محمد حفیظ یہ بھول گئے کہ شاہد آفریدی اس وقت بیٹنگ کے ضمن میں اپنے کیرئر کے برے دنوں سے گزر رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ناکام اننگزان کے اعتماد کو متزلزل کرچکی ہے اور بھارت کے خلاف انتہائی دباؤ والے میچ میں انہیں تیسرے نمبر پر بھیجنا کسی طور دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا۔

پاکستانی بولنگ کی قوت کہاں گئی؟

محمد حفیظ نے جیت کا سہرا ویرات کوہلی کے سر باندھ دیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی بولنگ قوت کہاں گئی جس کے گن کپتان ہر وقت گائے جارہے ہیں حالانکہ ایک معمولی سکور کا دفاع کرتے ہوئے بھی پاکستانی ٹیم نے ابتدا ہی میں گوتم گمبھیر کی وکٹ حاصل کرلی لیکن اس کے بعد بولرز کو جارحانہ اور مثبت انداز اختیار کر کے جس طرح بولنگ کرنی چاہیے تھی وہ نہ کرسکے ۔

بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی ضرورت کے مطابق یقیناً کی جاتی ہے لیکن یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جس کھلاڑی کو اس کے لیے چنا جارہا ہے اس کی فارم کیسی ہے۔

شاہد آفریدی جیسے آؤٹ آف فارم بیٹسمین کو تیسرے نمبر پر بھیجا گیا لیکن جب لوئر آرڈر میں تیز رنز کی ضرورت تھی تو لکیر کے فقیر کے مصداق بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی نہیں کی گئی اور گزشتہ میچ میں جارحانہ بیٹنگ کرنے والے عمرگل کو اوپر بھیجنے کے بجائے یاسرعرفات ہی کو بھیجا گیا جو ایک طویل عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ہوتے ہوئے آج بھی ایک اوسط درجے کے کھلاڑی دکھائی دیتے ہیں۔

محمد حفیظ کتنے ذہین اور جرات مند کپتان ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ گزشتہ میچوں میں پورے چار اوورز کراتے آئے تھے لیکن بھارت کے خلاف انہوں نے صرف ایک اوور کے بعد خود کو بولنگ سے دور کرلیا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف انہوں نے بہت ہی عمدہ بولنگ کرنے والے رضا حسن کو تین اوورز کے بعد بولنگ ہی نہیں دی۔

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ ان کے ذہن میں ایک سو پچاس سے ایک سو ساٹھ رنز کا اسکور تھا جو بیٹسمین نہ بناسکے اسی لیے بولرز کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔

محمد حفیظ نے جیت کا سہرا ویرات کوہلی کے سر باندھ دیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی بولنگ قوت کہاں گئی جس کے گن کپتان ہر وقت گائے جارہے ہیں حالانکہ ایک معمولی سکور کا دفاع کرتے ہوئے بھی پاکستانی ٹیم نے ابتدا ہی میں گوتم گمبھیر کی وکٹ حاصل کرلی لیکن اس کے بعد بولرز کو جارحانہ اور مثبت انداز اختیار کر کے جس طرح بولنگ کرنی چاہیے تھی وہ نہ کرسکے ۔

ایک کے بعد ایک ناکام اننگز شاہد آفریدی کے اعتماد کو متزلزل کرچکی ہے

فیلڈنگ پاکستانی ٹیم کا پرانا مرض ہے جس کی دوا کسی کے پاس نہیں ہر میچ میں کیچ گرے اور اسٹمپ چھوٹے، اس پر کسی کوحیرت نہیں ہوتی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم آسٹریلیا سے ہارنے کی صورت میں دو پوائنٹس پر ہی رہے گی اور آسٹریلوی ٹیم چھ پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی اور اگر بھارتی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو شکست دیدی تو وہ بھی چار پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

اگر پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو ہراتی ہے اور بھارت بھی جنوبی افریقہ کو شکست دیتا ہے تو پھر پاکستان آسٹریلیا اور بھارت کے چار چار پوائنٹس ہونگے اور سیمی فائنل کی دو ٹیموں کا فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔

تیسری صورت یہ ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کو ہرادیتا ہے اور بھارت جنوبی افریقہ سے ہارجاتا ہے تو پھر پاکستان اور آسٹریلیا سیمی فائنل میں ہونگے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔