سیمی فائنل یا گھر کا راستہ

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 09:20 GMT 14:20 PST

اتوار کو بھارت نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ ٹو کے سپرایٹ کے آخری دو میچز منگل کو کولمبو میں کھیلے جا رہے ہیں۔

پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوگا جبکہ بھارتی ٹیم جنوبی افریقہ کا سامنا کرے گی۔

بھارت کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم اب ایسی صورتحال سے دوچار ہے جس میں وہ ٹورنامنٹ سے باہر بھی ہو سکتی ہے۔

اگر وہ آسٹریلیا سے ہارگئی اور آخری میچ میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا تو پاکستانی ٹیم کو گھر کی راہ لینی پڑے گی اور آسٹریلیا اور بھارت سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔

اگر پاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا دیا اور بھارت بھی جنوبی افریقہ کو شکست دے دے تو پھر تین ٹیموں آسٹریلیا پاکستان اور بھارت کے چار چار پوائنٹس ہو جائیں گے اور فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔

پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف جیت اور بھارت کی جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کی صورت میں پاکستان اور آسٹریلیا سیمی فائنل کھیلیں گے۔

پاکستان اور بھارت کی شکست کی صورت میں ان دونوں کے علاوہ جنوبی افریقہ کے بھی دو دو پوائنٹس ہو جائیں گے اور سیمی فائنل کی ایک ٹیم کا فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ منتظمین کے لیے یہ صورتحال اچھی ہو سکتی ہے لیکن پاکستانی ٹیم کے لیے نہیں۔

واٹممور شکست کے بعد پریس کانفرنس میں آئے تو چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ سخت غصے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن شعبوں میں کارکردگی اچھی نہیں رہی ان میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کے پاس بھی ایک ہی موقع رہ گیا ہے

بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کے پاس بھی ایک ہی موقع رہ گیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کو شکست دیں۔

مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ یہ میچ ان کی ٹیم کا آخری میچ بھی ثابت ہو سکتا ہے لہذٰا تمام پہلوؤں پر توجہ رکھتے ہوئے اچھی کرکٹ کھیلنی ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ اچھی بات یہ ہے کہ ان کے تمام بیٹسمینوں کو بیٹنگ کا موقع مل چکا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ صورتحال کے مطابق سلیکشن کی جاتی ہے اور سہواگ کو پاکستان کے خلاف کھلانے کا مقصد یہی تھا کہ ان کی پاکستان کے خلاف کارکردگی اچھی رہی ہے۔

بھارتی کپتان نے یوراج سنگھ پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فٹ ہیں اور بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔

بھارتی ٹیم نے دو ہزار سات میں پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا لیکن اس کے بعد سے وہ سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے دوہزار سات میں بھارت سے فائنل ہارنے کے بعد دو ہزار نو میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا۔

آسٹریلوی ٹیم دو ہزار دس کی فائنلسٹ ہے جبکہ جنوبی افریقہ کی رسائی ابھی تک صرف سیمی فائنل تک رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔