سری لنکا میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نگرانی

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 05:00 GMT 10:00 PST

سال دو ہزار گیارہ میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پی سی بی نے اقدامات شروع کیے تھے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے بچنے کے لیے سری لنکا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شریک کرکٹ ٹیم کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف کے مطابق’دورے کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے کسی بھی کھلاڑی کو مشکوک یا اجنبی شخص سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں ایک سکیورٹی ونگ تشکیل دیا گیا ہے اور وہ سری لنکا میں ٹیم کے ہمراہ اہلکاروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر بھیجی جانے والی رپورٹس کا جائزہ لیتا ہے۔‘

ذکا اشرف کے مطابق’شام کے اوقات میں کھلاڑی کے لیے کرفیو ہوتا ہے۔ کوئی بھی نتائج کو نہیں دیکھ سکتا اور ٹیم بہتر کر رہی ہے۔‘

خیال رہے کہ سال دو ہزار گیارہ میں کلِک انگلینڈ کے دورے کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف کو سپاٹ فکسنگ کیس میں جرم ثابت ہونے پر جیل بھیج دیا گیا تھا اور کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی دی گئی تھی۔

اسی دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئندہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے تھے۔

سری لنکا میں قیام کے دوران ہوٹل اور ٹریننگ کے دوران پاکستانی کھلاڑی اور کوچ کو شائقین سے بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔

دریں اثناء منگل کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ مقابلوں کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہو رہا ہے۔

اگر پاکستان آسٹریلیا سے ہارگیا اور آخری میچ میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا تو پاکستانی ٹیم کو گھر کی راہ لینی پڑے گی اور آسٹریلیا اور بھارت سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔

اگر پاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا دیا اور بھارت بھی جنوبی افریقہ کو شکست دے دے تو پھر تین ٹیموں آسٹریلیا پاکستان اور بھارت کے چار چار پوائنٹس ہو جائیں گے اور فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔