بیٹنگ میں بہتری کی ضرورت ہے: ثناء میر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 11:58 GMT 16:58 PST

پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثناء میر سری لنکا میں جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کی بالنگ سے تو مطمئین ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ بیٹنگ میں مذید بہتری کی ضرورت ہے۔

ثناء میر کے مطابق یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیمیں پاکستان سے میچز کھیلیں۔

واضح رہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو سخت مقابلے کے بعد ایک رن سے شکست دی تاہم اسے انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ثناء میر نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کو مل رہی ہے لیکن جب تک بڑی ٹیمیں پاکستانی ٹیم سے نہیں کھیلیں گی اس کی کارکردگی میں بہتری نہیں آئے گی۔

"پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹ کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں لیکن کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے ڈومیسٹک ویمنز کرکٹ میں دو روزہ میچز شروع کرنے ہوں گے "

ثناء میر

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف تین سال قبل ایک وارم اپ میچ کھیلا تھا۔ اسی طرح بھارت سے بھی گزشتہ سال صرف ایک ورلڈ کپ میچ کھیلا۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا تجربہ اچھا رہا۔ پاکستانی ٹیم نے وارم اپ میچ جیتا اور پھر بھارت کو بھی شکست دی جو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اس کی پہلی جیت بھی ہے۔

خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان کے مطابق پاکستانی کھلاڑی یہ سوچ کر آئی تھیں کہ اس بار بھارت کو شکست دینی ہے اور اس جیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پورے میچ میں تمام کھلاڑیوں نے کسی بھی موقع پر ہمت نہیں ہاری۔

پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ان کی بالنگ کسی بھی ٹیم کی بالنگ کی ہم پلہ ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے انگلینڈ کی ایک سو تینتیس رنز پر چھ وکٹیں حاصل کر لی تھیں جبکہ آسٹریلوی بالرز انگلینڈ کے ایک سو چھیالیس رنز پر صرف تین وکٹیں حاصل کر پائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور دیگر ٹیموں کی بیٹنگ میں بہت زیادہ فرق ہے کیونکہ دوسری ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رکھی ہے جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے بھی شامل ہے جبکہ پاکستان نے ٹیسٹ اور ون ڈے بھی دوسری ٹیموں سے کم کھیلی ہے۔

ثناء میر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹ کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں لیکن کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے ڈومیسٹک ویمنز کرکٹ میں دو روزہ میچز شروع کرنے ہوں گے تاکہ کھلاڑیوں کو وکٹ پر دیر تک ٹھہرنے کا تجربہ حاصل ہوسکے کیونکہ اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے بیس اوورز میں بھی آٹھ نو وکٹیں گنوائی ہیں۔

ثناء میر نے کہا کہ پاکستان کو رواں ماہ چین میں ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کھیلنا ہے اور پھر بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی حصہ لینا ہے چونکہ عالمی کپ سے پہلے پاکستان کی کوئی بین الاقوامی مصروفیت نہیں ہے لہذا ایشیا کپ میں ہی پچاس اوورز کی کرکٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا کامبی نیشن تیار کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔