بیس اوورز کی کرکٹ کے بیس دن

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 21:43 GMT 02:43 PST
کرس گیل اور مہیلا جے وردھنے

مہیلا جے وردھنے میع کے بعد کرس گیل کو مبارکباد دے رہے ہیں

پریماداسا اسٹیڈیم میں اب سکوت طاری ہے۔

اتوار کی رات اس میدان میں صدر راجا پاکسے سمیت ہر سری لنکن کو یہ یقین ہوچلا تھا کہ اس بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی انہی کا ہے اور ان کے دل و دماغ میں جشن ہی چھایا ہوا تھا لیکن یہ جشن کسی اور نے منایا اور خوب منایا اور میزبانوں کے نصیب میں ایک اور شکست لکھ دی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر راجا پاکسے نے فائنل سے ایک روز پہلے ہی ازراہ تفنن کہا تھا کہ وہ اسی وقت فائنل دیکھنے آئیں گے جب انہیں یقین ہوگا کہ ان کی ٹیم جیت رہی ہے ۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ گزشتہ دو عالمی کپ اور ایک ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل کے موقع پر ان کی موجودگی میں سری لنکن ٹیم شکست سے دوچار ہوئی تھی۔

سری لنکن کپتان مہیلا جے وردھنے کہتے ہیں کہ انہیں یہ فائنل نہ جیتنے پر بہت تکلیف پہنچی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چار فائنلز کی ہر شکست پہلے سے مختلف رہی ہے اس بار جیتنے کا اچھا موقع تھا لیکن بولنگ میں جو اچھی کارکردگی دکھائی گئی اس کا تسلسل بیٹنگ میں قائم نہ ہوسکا۔

ویسٹ انڈیز کی جیت کو جزائرغرب الہند میں کرکٹ کی دوبارہ سربلندی کے تناظر میں بڑی اہمیت سے دیکھا جا رہا ہے۔

ایک ایسی ٹیم جس نے اپنے گروپ میں ایک بھی میچ نہ جیتا ہو اورفائنل میں اس نے دس اوورز میں صرف بتیس رنز بنائے ہوں وہ فاتح بنے گی اس کا شاید ہی کسی نے سوچا ہو لیکن کپتان ڈیرن سیمی کے خیال میں یہ خدا پر یقین اور کھلاڑیوں کی خود اعتمادی کا نتیجہ ہے۔

ویسٹ انڈیز نے آٹھ سال بعد آئی سی سی کا کوئی ایونٹ جیتا ہے اور اس جیت کو اس کے کھلاڑیوں نے منفرد انداز میں خوشی کا اظہار کرکے مزید دوبالا کردیا۔

کرس گیل اور دوسرے کرکٹرز کا گینگ نیم سٹائل شائقین میں ان کے چھکوں سے زیادہ مقبول رہا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم

ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے اپنے گروپ میں کوئی بھی میچ نہ جیتا اور فائنل جیت گئی

اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں میدان سے باہر بھی بہت کچھ ہوتا رہا۔

ان بیس دنوں میں میدان اور میدان سے باہر بہت کچھ دیکھنے اور سننے کو ملتا رہا۔

ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کی پارٹی میں شریک تین انگریز خواتین کی گرفتاریT مضرصحت پانی کا قضیہ اور پاکستانی ٹیم کے منیجر اور میڈیا منیجر کے درمیان تلخ کلامی اپنی جگہ لیکن ان تمام واقعات پر بہرحال میدان میں ہونے والی کرکٹ حاوی رہی۔

سپر اوور کی سنسنی خیزی نے کبھی شائقین کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کیا تو کرس گیل کے بلند اور طاقتور چھکوں نے تفریح کا پورا پورا سامان مہیا کیا۔ شین واٹسن کی آل راؤنڈ کارکردگی اور اجانتھا مینڈس کی بولنگ کی پراسراریت بھی کسی طور پیچھے نہ رہی۔

پاک بھارت کرکٹ نے بھی اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنا رنگ خوب جمایا۔ جنوبی افریقہ نے اپنے چوکر ہونے کی روایت برقرار رکھی۔

اسی ورلڈ ٹوئنٹی میں سائمن ٹافل نے بین الاقوامی امپائرنگ کو الوداع کہا۔

انتظامی طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی انتہائی کامیاب ایونٹ ثابت ہوا لیکن آئی سی سی کو ٹیسٹ اور ون ڈے کے بعد اب ٹی ٹوئنٹی میں بھی امپائر ریویو سسٹم کو متعارف کرانے کے بارے میں سنجید گی سے سوچنا پڑے گا۔ ناصر جمشید اور ڈیوین براوو کے آؤٹ دیئے جانے کے فیصلوں کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔