’تفتیش مکمل ہونے تک امپائرنگ سے روک دیا گیا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 12:16 GMT 17:16 PST
بنگلہ دیشی امپائر

چینل نے الزام عائد کیا تھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے پہلے جو چھ امپائر اس کے میچ فکس کرنے پر تیار تھے ان کا تعلق سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تھا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹی وی چینل کے سٹنگ آپریشن میں جن چھ امپائرز کے نام آئے ہیں ان کو معاملے کی تفتیش مکمل ہونے تک امپائرنگ سے روک دیا گیا ہے۔

بھارت کے ایک ٹی وی چینل نے پیر کو نشر کیے گئے ایک پروگرام میں الزام لگایا تھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے پہلے چھ امپائرز اس کے میچز فکس کرنے پر تیار تھے۔

کرکٹ کی گورننگ باڈی نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اس ٹی وی چینل سے کہا تھا کہ اگر اس کے پاس شواہد ہیں تو وہ اس کے حوالے کرے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔

بدھ کو انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے ایک ترجمان نے کہا ’جن کا نام آیا ہے ان سے آئی سی سی نے ابھی رابطہ نہیں کیا ہے اور جو بورڈز امپائروں کو لینے اور نامزد کرنے کا کم کرتے ہیں وہ اس معاملے کی ترجیحی بنیادوں پر تفتیش کریں گے۔‘

"جن کا نام آیا ہے ان سے آئی سی سی نے ابھی رابطہ نہیں کیا ہے اور جو بورڈز امپائروں کو لینے اور نامزد کرنے کا کم کرتے ہیں وہ اس معاملے کی ترجیحی بنیادوں پر تفتیش کریں گے۔"

آئی سی سی

بھارتی ٹی وی کی جانب سے جن چھ امپائروں پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کیےگئے ہیں ان میں سے دو پاکستانی امپائر ہیں۔

اس میں ایک امپائر ندیم غوری نے ٹی وی پر اپنے بارے میں چلنے والی ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔

ندیم غوری کے مطابق یہ ایک سازش ہے اور اس کے پیچھے بھارت کی ایک مخصوص لابی کا ہاتھ ہے۔ بھارتی نجی ٹی وی کی جانب سے ایک اور پاکستانی امپائر انیس صدیقی پر بھی اسی طرح کے میچ فکسنگ کا الزام لگایا ہے۔

آئی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں جن امپائروں کے نام لیے گئے ان میں سے کسی کی بھی خدمات ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے حاصل نہیں کی گئی تھیں۔

چینل نے الزام عائد کیا تھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے پہلے جو چھ امپائر اس کے میچ فکس کرنے پر تیار تھے ان کا تعلق سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔