’سائیكلنگ کے کھیل پر سے اعتبار اٹھ گیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 13:33 GMT 18:33 PST

برطانوی سائیكلنگ کے سربراہ ڈیو بریلسفورڈ نے کہا ہے کہ امریکی کھلاڑی لارنس آرمسٹرانگ کی وجہ سے سائیكلنگ کے کھیل پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب لوگ سائیكلنگ کے کھیل کے کسی بھی نتیجے کو شک کی نظر سے دیکھیں گے۔

ڈیو بریلسفورڈ کے مطابق لارنس آرمسٹرانگ کی وجہ سے سائیكلنگ کے کھیل کا راستہ کھو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (یوساڈا) کی رپورٹ کے انکشاف کے بعد وہ لڑکھڑا گئے ہیں۔

برطانوی سائیكلنگ کے سربراہ نے بی بی سی ریڈیو فائیو کو بتایا کہ یوساڈا کی رپورٹ چونکا دینے والی ہے۔

ڈیو بریلسفورڈ کا کہنا ہے کہ لارنس آرمسٹرانگ وہ پہلے سائیکلسٹ ہیں جنہوں نے اس کھیل کو ایک نئے مقام تک پہنچایا اور ایک ہیرو کا درجہ حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارنامہ بلا شبہ تعجب انگیز ہے تاہم ان کی یہ حرکت یقینی طور پر بہت مایوس کن ہے۔

اکتالیس سالہ آرمسٹرانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈوپنگ کا ایسا ’جدید، پیشہ ورانہ اور کامیاب‘ طریقہ اپنایا جو اب تک کھیل کی دنیا میں دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔‘

واضح رہے کہ کھیلوں میں ممنوعہ ادویات سے متعلق امریکی ادارے یو ایس اے ڈی اے نے ان پر تاحیات پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں سات ٹور ڈی فرانس اعزازات سے محروم کر دیا ہے۔

سات مرتبہ ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس جیتنے والے لارنس آرمسٹرانگ ڈوپنگ کے الزامات کو غلط قرار دیتے ہیں لیکن انہوں نے یوساڈا کے الزامات پر جرح بھی نہیں کی ہے۔ ان کے وکیل نے اس رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیا ہے۔

یو ایس اے ڈی اے نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انیس سو چھیانوے ہی سے ممنوعہ ادویات استعمال کرنا شروع کر دی تھیں جن میں خون بڑھانے والی دوا ای پی او، سٹیرائڈز اور انتقالِ خون شامل ہیں۔

یوساڈا کے چیف ایگزیکٹو ٹریوس ٹی ٹائیگارٹ نے ایک بیان میں کہا کہ آرمسٹرانگ کی ٹیم کے خلاف ڈوپنگ کے ’پکے اور ٹھوس ثبوت‘ موجود ہیں۔

وہ آرمسٹرانگ کے معاملے میں اپنا ’منطقی فیصلہ‘ بین الاقوامی سائیكلنگ یونین، ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی اور عالمی ٹرائيتھلن کارپوریشن کو بھیجیں گے۔

بین الاقوامی سائیكلنگ یونین کے پاس اس فیصلے کے خلاف واڈا سے شکایت کرنے کے لیے اکیس دن کا وقت ہے اور ایسا نہ کرنے پر اسے آرمسٹرانگ سے ان کے تمام سات ٹور ڈی فرانس ٹائٹل واپس لینے اور ان پر تاحیات پابندی لگانے کے فیصلے پر عمل کرنا ہوگا۔

آرمسٹرانگ نے سنہ انیس سو ننانوے سے دو ہزار پانچ کے دوران سات مرتبہ ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس جیتی تھی اور اس دوران وہ کینسر کے خلاف بھی جنگ لڑتے رہے اور صحتیاب ہوئے۔

وہ دو ہزار پانچ میں سائیکلنگ سے ریٹائر ہوگئے تھے لیکن دو ہزار نو میں وہ دوبارہ کھیل میں واپس آئے اور انہوں نے اس دوران ایسٹینا اور ریڈیوشیک ٹیموں کی نمائندگی کی۔ دو ہزار گیارہ میں پیشہ وارانہ کھیل سے دوبارہ ریٹائر ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔