دکن چارجرز آئی پی ایل سے باہر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 13:51 GMT 18:51 PST
دکن چارجرز

ڈکن چارجرز آئی پی ایل سے باہر کر دی گئی ہے۔

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ بی سی سی آئی نے دکن چارجرز کو آئی پی ایل سے خارج کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ دکن چارجرز کے مالک کے دکن کرانکل ہولڈنگز لمیٹڈ کے ذریعہ سو کڑور کی بینک ضمانت ادا نہ کر سکنے کے باعث بھارت میں کرکٹ کے سب سے بڑے ادارے نے یہ فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ چنئی میں آئی پی ایل کی گورننگ کونسل کی میٹنگ میں گذشتہ ماہ چودہ ستمبر کو ہی لے لیا گیا تھا لیکن عدالت سے انھیں ایک ماہ کی مہلت فراہم کی تھی۔

دکن چارجرز کو جمعہ کی شام پانچ بجے تک اس ضمانت کی ادائیگی کی مہلت فراہم کی گئی تھی لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے۔

اس سے قبل دوپہر کو خبروں میں کہا گیا تھا کہ دکن کرانیکل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دکن چارجرز کے مالکانہ حقوق ممبئی کی ایک ریئل اسٹیٹ کمپنی لینڈ مارک کو فروخت کر دیے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والی اس کمپنی نے تقریباً ایک ہزار کروڑ میں یہ سودا کیا ہے۔

گذشتہ ماہ حیدرآباد کی ہی ایک کمپنی پی وی پی ونچرز نے نو سو کروڑ میں اس ٹیم کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی جسے دکن کرانیکل نے خارج کر دیا تھا۔

نئے سودے کے بارے میں دکن چارجرز کے مالکوں نے بھارت کے نیشنل سٹاک ایکسچینج اور بامبے سٹاک ایکسچینج کو مطلع کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد دکن کرانیکل ہولڈنگز لمیٹڈ کے حصص میں چار اعشاریہ نو دو فی صد کا اضافہ ہوا۔

سٹاک ایکسچینج کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے گیارہ اکتوبر کو ہونے والی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا ہے کہ وہ دکن چارجرز کی فرنچائز کملا لینڈ مارک ریئل سٹیٹ ہولڈنگز پرائیوٹ لمیٹڈ کو منتقل کر رہی ہے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ دکن چارجرز کو نیا مالک مل جانے کے بعد اب اس کا مستقبل کیا ہوگا۔

آئی پی ایل کا دوسرا سیزن دکن چارجرز نے جیتا تھا لیکن اس کے بعد سے اس کی کارکردگی خاطر خواہ نہیں رہی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔