نیپال میں پہلے جنوبی ایشیائی ہم جنس کھیل

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 11:46 GMT 16:46 PST
ایل جی بی ٹی کھیل

ہم جنس پرستوں کے پہلے جنوبی ایشیائی کھیل کاٹھمنڈو میں جاری ہیں۔

نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو میں پہلے جنوبی ایشیائی ہم جنس کھیل منعقد کیے جا رہے ہیں۔

سابق امریکی اولمپیئن گریگ لوگانیس نے جمعے کو ریفری کو گیند پاس کر کے تین دنوں تک جاری رہنے والی اس سرکاری تقریب کا افتتاح کیا۔

اس تقریب کا انعقاد نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو کے دشرتھ سٹیڈیم میں ہو رہا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کھیلوں میں تیس ممالک کے کھلاڑیوں کے شرکت کرنے کی امید ہے جن میں سارک ممالک کے تین سو سے زیادہ ہم جنس، بائی سیکشوئل اور ٹرانس جینڈر (ایل جی بی ٹی) کھلاڑی شامل ہونگے۔

جمعے کو پہلے دن نیپال کے ایل جی بی ٹی کھلاڑیوں نے فٹبال میچ میں حصہ لیا جسے دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

امریکی اولمپیئن اور اس کھیل کے مہمان خصوصی گریگ ہم جنس پرست ہیں اور وہ ایچ آئی وی کے شکار ہیں۔

نیپال کی روایتی پوشاک میں گریگ نے اس موقع پر کہا: ’اس تقریب میں شرکت کر کے میں فخر محسوس کر رہا ہوں۔ آپ حوصلے اور کھیل کے جذبات کو برقرار رکھیں۔‘

ہم جنس پرست کو حق

"ہم نیپال اور نیپال کے باہر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایل جی بی ٹی برادری کے لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں لوگ عام انسان تسلیم کریں نہ کہ ان کے ساتھ تفریق کریں"

سنیل بابو پنت

اس تقریب کا انعقاد بلیو ڈائمنڈ سوسائٹی نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کر رہی ہے۔ اسے امریکہ، آسٹریلیا اور ناروے کے سفارت خانوں سے مدد مل رہی ہے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر سنیل بابو پنت نے کہا کہ اس کھیل کا انعقاد ہم جنس پرستی اور ٹرانس جینڈر قوم کی حالت کی جانب توجہ مبذول کرانے اور ان کی طرف امتیاز ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم نیپال اور نیپال کے باہر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایل جی بی ٹی برادری کے لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں لوگ عام انسان تسلیم کریں نہ کہ ان کے ساتھ تفریق کریں۔‘

منتظمین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت سے کچھ کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے کھلاڑی شاید رجسٹریشن کروانے سےہچكچا بھی رہے ہیں۔ روس اور ڈنمارک سے بھی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔

ہفتے اور اتوار کو ایتھلیٹکس، باسکٹ بال، فٹ بال، کبڈی اور والي بال کے مقابلے ہونگے۔ .

اتوار کواختتامی تقریب میں خوبصورتی کے مقابلے ہونگے جسے ’پنک پیجنٹ‘ یعنی گلابی مقابلۂ حسن کہا جا رہا ہے۔

نیپال کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیپال ہم جنس پرستوں کو تسلیم کرے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا ہے۔

ہم جنس برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ جیسے شناختی دستاویز میں ان کے لیے دوسرے طبقے کے زمرے شامل ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔