کرکٹ قوانین میں ترامیم تیس اکتوبر سے لاگو

آخری وقت اشاعت:  منگل 30 اکتوبر 2012 ,‭ 02:37 GMT 07:37 PST

آئی سی سی کی جانب سے اس سال جون میں منظور ہونے والی کرکٹ قوانین میں ترامیم تیس اکتوبر سے لاگو ہوں گی جن کے تحت ٹیسٹ میچ رات کو بھی کھیلے جا سکیں گے۔

ان ترامیم کے تحت پہلا بین الاقوامی کرکٹ میچ سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے مابین پالی کیلے میں کھیلے جانے والا ٹی ٹوئنٹی میچ ہوگا۔

ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے چند مختلف ترامیم کی گئی ہیں۔

ایک اہم ترمیم ایل بی ڈبلیو سے متعلق نظرِ ثانی کے نظام ڈی آر ایس کے قانون میں کی گئی ہے۔ ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں ڈی آر ایس کے تحت اگر پیڈ سے ٹکراتے وقت گیند کا درمیانی حصہ وکٹوں کے درمیان ہوگا تو فیصلہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ کا ہوگا۔ اگر پوری گیند وکٹوں کی سیدھ میں نہیں ہوگی تو فیصلہ ہمیشہ ناٹ آوٹ ہوگا۔ ان دو امکانات کے علاوہ کسی بھی امکان میں میدان میں کھڑے امپائر کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

تمام فارمیٹس میں کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے کی صورت میں ٹی وی امپائر بولر کی نو بال چیک کر کے میدان میں موجود اپنے ساتھی کو بتا سکیں گے۔

اسی طرح تمام فارمیٹس میں سپائیڈر کیم کے استعمال سے متعلق بھی قانون بنا دیا گیا ہے۔ سپائیڈر کیم وہ کیمرے ہیں جو میدان کے بیچ میں تاروں کی مدد سے لٹکائے جاتے ہیں۔ کسی بلے باز کی جانب سے مارے گئے شاٹ کے ان کیمروں یا ان کی تاروں سے ٹکرانے کی صورت میں وہ بال ڈیڈ بال قرار دی جائے گی۔

کسی بھی فارمیٹ میں بیٹنگ ٹیم کی وجہ سے تاخیر کا نقصان اب اسی ٹیم کو ہی ہوگا کیونکہ اوور ریٹ کے سلسلے میں ٹیموں کو اتنا ہی نقصان ہوگا جو کہ ان کی اپنی ٹیم کو وجہ سے ہو۔

ٹیسٹ میچوں کے قوانین میں اہم ترمیم یہ لائی گئی ہیں کہ اب دونوں ممالک کے بورڈز کی منظوری کے بعد دو طرفہ ٹیسٹ سیریز میں ٹیسٹ میچوں کو رات میں کھیلے جانے کی اجازت ہوگی۔ میچ سے پہلے دونوں بورڈز کھیل کے اوقات کا تعین کریں گے مگر یہ ایک روز میں کل وقت چھ گھنٹے ہی ہوگا۔ دونوں بورڈز ایسی صورتحال میں یہ بھی فیصلہ کر سکیں گے کہ انہیں سفید گیند استعمال کرنی ہے یا سرخ۔

ایک روزہ میچوں میں جو مخصوص تبدیلی کی گئی ہے وہ پاور پلے کے سلسلے میں ہے۔ پاور پلے کے اووروں کے اب صرف دو سلسلے ہوں گے، جن میں پہلے دس اوورز میں تیس گز کے دائرے سے باہر دو فیلڈرز کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ دوسرا بلاک بیٹنگ کپتان کی مرضی سے پانچ اووروں کا سلسلہ ہوگا جو کہ چالیسویں اوور سے قبل استعمال کرنا ہوگا اور اس کے دوران تین فیلڈر دائرے سے باہر ہو سکیں گے۔ ایک دلچسپ بات ہی ہے کہ ان قوانین کے تحت پاور پلے کے اووروں کے علاوہ اووروں میں تیس گز کے دائرے سے باہر صرف چار کھلاڑیوں کو رکھا جا سکے گا جو کہ پہلے پانچ ہو سکتے تھے۔

ایک روزہ میچوں کی ایک اور تبدیلی یہ ہے کہ بولرز کو ہر اوور میں اب دو باؤنسر کرنے کی اجازت ہوگی۔

ٹی ٹوئنٹی میچوں میں میچ برابر ہونے کی صورت میں جو ایک الیمنیٹر اوور کا استعمال کیا جاتا ہے اس کے قوانین میں بھی وضاحت ان ترامیم کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔