’ممنوعہ ادویات کے بارے میں حلف نامہ لازمی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 05:55 GMT 10:55 PST

سات مرتبہ ٹور دی فرانس کے فاتح لانس آرم سٹونگ سے ممنوعہ ادویات کے استعمال کی وجہ سے تمام اعزازات واپس لے لیے گئے ہیں

آسٹریلیا کی اولمپک کمیٹی نے کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے اُس مجوزہ مسودے کی توثیق کر دی ہے جس کے تحت مستقبل کے تمام آسٹریلوی اولمپک ایتھلیٹس اور اہلکاروں کو ایک اعلامیہ پر دستخط کرنا ہوں گے کہ آیا انہوں نے ماضی میں کبھی کارکردگی بڑھانے کے لیے کسی دوا کا استعمال تو نہیں کیا اور جھوٹ بولنے والوں کو قید کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

جمعے کو آسٹریلین اولمپک کمیٹی نے اس مجوزہ منصوبے کی منظوری دی جو کہ اصل میں امریکی سائکلسٹ لانس آرم سٹرونگ پر بننے والے ڈوپنگ کیس کا ردعمل ہے۔

لانس آرم سٹرونگ سات مرتبہ سائکلنگ کی دنیا کا اہم ترین مقابلہ ڈور دی فرانس کے فاتح رہے۔ خال ہی میں ان کے چند قریبی ساتھیوں نے انکشاف کیا کہ عالمی چیئمپیئن غیر قانونی ادویات کا استعمال کرتے رہے ہیں جس کے بعد ان سے تمام اعزازات واپس لے لیے گئے۔

آسٹریلیا کے دو سینئر سائکلنگ افسران نے بھی بعد میں یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنے ریسنگ کریئرز کے دوران طاقت بخش دوا استعمال کی تھی، اپنے عہدے چھوڑ دیے تھے۔

دو نومبر کو جب اس پلان کا اعلان کیا گیا تھا تو آسٹریلوی اولمپک کمیٹی کے صدر جان کوئٹز نے کہا تھا کہ جو کھلاڑی اس حلف نامے پر دستخط نہیں کریں گے، وہ اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہیں گے اور غلط بیانی کرنے والوں کو پانچ سے سات سال تک کی قید کی سزا ہو سکے گی۔

"ہمیں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اس سلسلے میں منظرِ عام پر آنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ ہم ان کی ہمت بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہم جو پیغام دینا چاہ رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ آپ خود آ کر ہم سے بات کر لیں اس سے پہلے کہ کوئی اور ہمیں آپ کے بارے میں بتائے"

چیف ایگزیکٹوو آسٹریلوی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی، ارورا اندروسکا

انھوں نے کہا کہ آسٹریلوی اولمپک کمیٹی ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا چاہتی جن سے سائکلنگ کی دنیا کو ابھی گزرنا پڑا ہے۔

آسٹریلوی اولمپک کمیٹی کے ترجمان مائک ٹین کریڈ نے جمعے کے روز کہا کہ یہ قوانین صرف کارکردگی بہتر کرنے والی ادویات کے سلسلے میں ہے اور یہ جونیئر ٹیموں لاگو نہیں ہوگی۔

قانون بن جانے کی صورت میں یہ اصول روس میں ہونے والے سنہ دو ہزار چودہ کے موسمِ سرما کے اولمپک مقابلوں اور دو ہزار سولہ میں ریو ڈی جنیرو میں موسمِ گرما کے اولمپک مقابلوں پر لاگو ہوگا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کی کھیلوں میں غیر قانونی ادویات کے استعمال کے نگراں ادارے نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ غیر قانونی ادویات کے استعمال میں ملوث مزید سائکلسٹ سامنے آنے اور ادارے کو مزید معلومات دینے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے قوانین کےمطابق سامنے آنے والے تمام کھلاڑیوں کی مدد کی جائے گی۔

ادارے کے چیف ایگزیکٹوو ارورا اندروسکا کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اس سلسلے میں منظرِ عام پر آنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ ہم ان کی ہمت بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہم جو پیغام دینا چاہ رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ آپ خود آ کر ہم سے بات کر لیں اس سے پہلے کہ کوئی اور ہمیں آپ کے بارے میں بتائے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔