بھارتی سٹے بازوں کو قابو کرنے کی ضرورت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 15:52 GMT 20:52 PST
احسان مانی

آئی سی سی بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے سامنے بے بس نظر آتی ہے: احسان مانی

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ بھارتی سٹے بازوں پر قابو پائے بغیر کرکٹ میں بدعنوانی ختم کرنا ممکن نہیں اور اس ضمن میں آئی سی سی بھارتی کرکٹ بورڈ کے سامنے کمزور دکھائی دیتی ہے۔

احسان مانی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ پچھلے بیس برسوں میں میچ فکسنگ کے جتنے بھی کیس سامنے آئے ہیں ان میں بھارتی تعلق ہی دکھائی دیتا ہے۔

گذشتہ دنوں منظرِعام پر آنے والی برطانوی صحافی کی کتاب میں بھی انکشافات ایک بھارتی سٹے باز کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔

احسان مانی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی سی سی، بی سی سی آئی اور پی سی بی ان انکشافات کے بعد برطانوی صحافی سے ثبوت طلب کریں اور اگر ان الزامات میں کوئی سچائی ہے تو تحقیقات کی جائیں ورنہ لندن کی عدالت میں اس صحافی کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جائے۔

احسان مانی کا کہنا ہےکہ اگر وہ اس وقت آئی سی سی کے صدر ہوتے تو فوراً بھارتی حکومت سے بات کرتے اور اس سے کہتے کہ چونکہ سٹے بازی کا سب سے بڑا مرکز بھارت ہے اور اسے وہاں کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، لہٰذا ان سٹے بازوں کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ یہ بھارت کا نام بدنام کررہے ہیں۔

بھارت پاکستان سیمی فائنل

برطانوی صحافی کے مطابق دوہزار گیارہ کا بھارت پاکستان سیمی فائنل میچ فکس تھا۔

احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کرکٹ کرپشن میں بھارتی تعلق کے بار بار سامنے آنے کے باوجود کچھ بھی نہیں کر پا رہی ہے ۔سٹے بازوں کے خلاف قدم اٹھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ برطانوی صحافی ایڈ ہاکنز کی اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ اسپاٹ فکسنگ کے مقدمے کے جج جسٹس کک کو کرکٹ کی کوئی سمجھ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ جج حضرات مختلف نوعیت کے مقدمے سنتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ ہر شعبے سے تعلق نہیں رکھتے لیکن وہ قانون سمجھتے ہیں اور انہیں شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا آتا ہے، لہٰذا برطانوی صحافی کا اعتراض کوئی معنی نہیں رکھتا۔

دراصل یہ کرکٹ کا مقدمہ نہیں تھا، کرپشن کا مقدمہ تھا جس کا فیصلہ جسٹس کک نے دیا۔

اظہر الدین کو بھارتی عدالت سے کلیئر کیے جانے کے بارے میں احسان مانی کا کہنا ہے کہ سلیم ملک اور اظہر الدین کے مقدمات میں پی سی بی اور بی سی سی آئی نے دلچسپی نہیں لی شاید اس لیے کہ انہیں پتا تھا کہ ان دونوں کی بین الاقوامی کرکٹ ختم ہوگئی ہے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں کرکٹر چاہیں تو اپنے کریئر ختم کیے جانے پر آئی سی سی اور اپنے کرکٹ بورڈوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ انہیں پتا ہے کہ آئی سی سی اور کرکٹ بورڈوں کے پاس ان کے خلاف ثبوت موجود ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔