باکسنگ رِنگ کو الوداع

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST
رکی ہیٹن

رکی ہیٹن باکسنگ کے دو درجوں میں عالمی چیمپیئن رہ چکے ہیں ۔

سابق عالمی باکسنگ چیمپیئن رِکی ہیٹن نے مانچسٹر میں وے چیسلوو سنشنکو سے ہارنے کے بعد باکسنگ کو الوداع کہہ دیا ہے۔

چونتیس سالہ سابق باکسنگ چیمپیئن ہیٹن دوہزار نو کے بعد پہلی بار سنیچر کو باکسنگ رنگ میں اترے تھے جہاں نویں راؤنڈ کے بعد انہیں شکست سے دو چار ہونا پڑا۔

انھوں نے اپنی شکست کے بعد کہا: ’میں ایک بار مقابلہ کرنا چاہتا تھا تاکہ میں یہ دیکھ سکوں کہ آیا مجھ میں اب بھی کچھ دم خم باقی ہے لیکن پتہ چلا کہ اب نہیں ہے، میں اس مقابلے میں کوئی بہتر مظاہرہ نہیں کر سکا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ مجھے معلوم ہے کہ مجھ میں اب وہ دم خم نہیں۔ مجھے ایک مرد کی طرح اسے قبول کر لینا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ یہ رکی ہیٹن کا خاتمہ ہے۔‘

اسی سال ستمبر میں ہیٹن نے رنگ میں واپسی کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ ہیٹن باکسنگ کے دو درجوں میں عالمی چیمپیئن رہ چکے ہیں۔

ان کے حریف سنشنکو جو کہ عمر میں ان سے ایک سال بڑے ہیں انھہیں اپنے کیریئر میں ایک ہی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مانچسٹر کے باکسنگ رنگ میں بیس ہزار ناظرین کے سامنے وہ ہیٹن سے برتر نظر آئے اور ایسا لگا کہ ہیٹن ان کے مقابلے میں کہیں نہیں تھے۔

رکی ہیٹن

بہرحال ہیٹن نے جارحانہ انداز میں شروعات کی اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا لیکن جارح ہونے کی کوشش میں ان کا دفاع کمزور ہو رہا تھا۔

نویں راؤنڈ میں ان کی پسلی پر لگنے والے ایک گھونسے کے ساتھ ہی میچ ختم ہوگیا اور ہیٹن نے چشم نم کے ساتھ رنگ کو الوداع کہا۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’میں اپنی صحت اور فٹنس کے بہتر حال میں تھا اور اگر وہ گھونسا پسلی پر نہیں لگتا تو میں دوسری طرف ہوتا۔‘

ہیٹن دوہزار نو میں لاس ویگاز میں اس سے قبل ہونے والے مقابلے میں ناک آؤٹ ہوگئے تھے اور وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر کافی دن باکسنگ رنگ سے باہر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی سے ان کے مداحوں اور دوستوں کو ان پر فخر کرنے کا موقعہ ملتا۔

سنیچر کوشکست کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔

انھوں نے کہا: ’آج کی رات میں ایک خوش آدمی ہوں اور میرا خودکشی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں جو جواب چاہتا تھا وہ مجھے مل چکا ہے۔ میں آئینہ میں خود کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ مجھ سے جتنا ہو سکتا تھا اسے میں نے بہتر طریقے سے انجام دیا۔‘

سابق یورپیئن چیمپین میتھیو میکلن ان کی واپسی کے پیچھے تھے ان کا کہنا ہے کہ ‘ہٹ مین‘ نے بہتر فیصلہ لیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ فیصلہ لینے کا صحیح وقت تھا کیونکہ سنیچر کی رات وہ اپنے ماضی کی پرچھائیں نظر آ رہے تھے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔