بھارت کی ہار پر میڈیا کی نکتہ چینی

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 09:25 GMT 14:25 PST
مونٹی پنیسر

بھارتی سپنر کے مقابلے پنیسر نے بہت اچھی بالنگ کی

دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں بھارتی ٹیم کی دس وکٹوں سے ہار پر بھارتی میڈیا نے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی حکمت عملی اور ٹیم سلیکشن پر سخت نکتہ چينی کی ہے۔

اخبارات، ٹی وی چينلز اور مختلف ویب سائٹس اس ہار سے سخت نالاں ہیں، حالانکہ انہی ذرائع نے پہلے میچ میں ٹیم کی جیت کو خوب سراہا تھا۔

جہاں کپتان مہندر سنگھ دھونی کی سپن پچز کو ترجیح دینے پر تنقید کی گئی ہے وہیں سچن تندولکر کے مستقبل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے لکھا ہے کہ انگلینڈ کے نظم و ضبط کی وجہ سے ’بھارت کی سپن وکٹیں تیار کرنے کی چال ان کے گلے پڑ گئي۔‘

پی ٹی آئی نے بھارتی ٹیم کی کارکاردگی کو بہت خراب بتایا اور کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم نے ان کے اپنے میدان میں انھیں بری طرح مات دی ہے۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ ’کرکٹ نیکسٹ ڈاٹ کام‘ نے لکھا ہے کہ چونکہ مہندر سنگھ دھونی کی حکمت عملی پوری طرح ناکام رہی اس لیے انہیں اس پر دوبارہ غور و فکر کرنا ہوگا۔

انگریزی روز نامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے بھی مہندر سنگھ دھونی کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ انہوں نے سپن ہونے والی پچ پر اپنے بلے بازوں اور سپن گيند بازوں کی کار کردگي کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جب کہ نتیجہ بتاتا ہے کہ یہ جوش بے موقع و محل تھا۔

اخبار کے مطابق کپتان دھونی انگلینڈ کے بلے بازوں اور مونٹی پنیسر اور سوان جیسے انگلش سپنر کی صلاحیتوں کو پہچاننے میں ناکام رہے اور نتیجہ شرمناک ہار کی صورت میں سامنے ہے۔

لیکن اخبار ’دکن کرونکل‘ نے اس شکست کے لیے سپنر ہربھجن سنگھ اور اشون کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بھارتی سپن بولر پچ سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔

تندولکر تنقید کی زد میں

اس شکست کے لیے عمومی طور پر بھارتی میڈیا نے ٹیم کے سبھی کھلاڑیوں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے لیکن سچن تندولکر کی خراب کارکردگی ایک بار پھر بحث کا موضوع ہے کہ آخر وہ کب ریٹائر ہوں گے۔

اخبار ’دکن کرونکل‘ نے اس کے لیے ایک آن لائن سروے کیا جس کے مطابق تقریباً 82 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہیں اب کرکٹ سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔

ایک ہندی نیوز چینل ’آج تک‘ نے کہا کہ ’کرکٹ کے بھگوان‘ کی آب و تاب ماند پڑ گئی ہے۔

لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے سینیئر اہل کار راجیو شُکلا نے سچن کی حمایت کی ہے۔ شُکلا نے کہا کہ وہ ایک بڑے کھلاڑی ہیں اور وہ وہ خود یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کب کیا کرنا ہے۔ ’کسی کھلاڑي کی کارکردگی کا اندازہ ایک یا دو سیریز میں اس کی ناکامی سے نہیں لگانا چاہیے۔‘

لیکن بھارتی میڈیا نے انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی ان کی بہترین کارکردگی پر تعریف بھی کی ہے اور اس کے مطابق کیون پیٹرسن، مونٹی پنیسر اور کپتان کُک نے اس جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

دکن کرونکل نے لکھا ہے کہ احمد آباد ٹیسٹ میں ہار کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے ممبئی ٹیسٹ بڑی خود اعتمادی سے کھیلا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ پانچ دسمبر سے کولکتہ میں کھیلا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔