آصف کا چیمپیئن بننا معجزے سے کم نہیں

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 19:23 GMT 00:23 PST

جس ملک میں سپورٹس حکومت کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے ذمہ داران کی بھی ترجیح نہ ہو وہاں محمد آصف کا عالمی سنوکر چیمپئن بن جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔

محمد آصف کے عالمی چیمپئن بن جانے کے بعد مبارک باد کا پہلے سے تیار کردہ سرکاری بیان خالی جگہ پر ان کا نام درج کرکے ذرائع ابلاغ کی زینت بنادیا گیا تاکہ دنیا کو یہ بتایا جاسکے کہ سرکار کو کھیلوں سے کتنی محبت ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ رنگ برنگی گیندوں کے اس کھیل کا بلیک اینڈ وہائٹ المیہ بیان کرتا ہے۔

یہ پاکستان سپورٹس بورڈ اور بین الصوبائی رابطے کی وزارت ہی ہے جس نے کروڑوں کے اپنے بجٹ میں سے صرف آٹھ لاکھ روپے پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کو دینے سے انکار کردیا کہ وہ اپنے دو کھلاڑیوں کو بلغاریہ میں سنوکر کی عالمی چیمپئن شپ میں حصہ لینے کے لیے بھیجتی۔ بلکہ کئی ماہ کی خط وکتابت اور کوششوں کے بعد یہ ٹکا سا جواب دے دیا گیا کہ ایسوسی ایشن اپنے خرچ پر کھلاڑیوں کو عالمی ایونٹ میں بھیجے۔

پاکستان سپورٹس بورڈ جس کا اچھا خاصا بجٹ اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور افسران بالا کے غیرملکی دوروں پر ہی خرچ ہوجاتا ہے شاید اسی لیے وہ سفید ہاتھی کے نام سے مشہور ہے۔ اس پاکستان سپورٹس بورڈ کا کام ملک میں کھیلوں کا فروغ کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور کوچنگ ہے لیکن ان دنوں یہ ادارہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے اختیارات کی جنگ میں مصروف ہے اور اس کوشش میں وہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی حد بھی پارچکا ہے۔

پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کو ہر دور میں مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ماضی میں اسے سگریٹ بنانے والی ایک کمپنی کی سپانسرشپ حاصل تھی لیکن جب سے کھیلوں کی سپانسرشپ میں سگریٹ ممنوع قرار دی گئی سارا پیسہ دھوئیں کی طرح اڑگیا۔

اب سنوکر چلانے والے مختلف چھوٹی چھوٹی سپانسرشپ کے ذریعے نہ صرف کھلاڑیوں کو بیرون ملک ایونٹس میں بھیج رہے ہیں۔ جب بھی موقع ملتا ہے ملک میں بھی انٹرنیشنل ایونٹ کا انعقاد کرالیتے ہیں۔ اس مشکل صورتحال میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے۔

سنوکر ان چار کھیلوں میں شامل ہے جن میں پاکستان عالمی چیمپیئن بنا ہے لیکن اس کھیل کے پاس کرکٹ جیسا گلیمر نہیں کہ سپانسر خود چل کر آئے۔ اس کھیل کے پاس ہاکی جیسے حکومتی سیاست داں بھی نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس سے گرانٹ کی قطار لگی رہے اور نہ سکواش جیسا حال ہے کہ جس کی اب اڑان نہیں ہے لیکن مالی آسودگی اب بھی ہے۔

سنوکر کے کھلاڑی چند ہزار روپے کی ملازمت کے لیے اب بھی پریشان پھرتے رہتے ہیں کیونکہ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے پاس سونے کی کان نہیں کہ لاکھوں کے سینٹرل کنٹریکٹ دے سکے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کے پہلے عالمی چیمپئن محمد یوسف اسی معاشی گردش میں پھنسے رہے۔ ان کے بعد عالمی ایونٹ کا فائنل کھیلنے والے صالح محمد کو جب یہاں اپنا مستقبل نظر نہیں آیا تو وہ اپنے وطن افغانستان لوٹ گئے۔ صرف یہی دو نہیں بلکہ سنوکر کے ہر پاکستانی کھلاڑی کی کہانی ایک جیسی ہی ہے۔

محمد آصف کو حکومت پاکستان نے یا کھیلوں کے صوبائی وزیر نے عالمی چیمپیئن نہیں بنایا اور نہ ہی پاکستانی سپورٹس بورڈ کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے۔ اگر پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کے صدر عالمگیر شیخ مخیر حضرات کی مدد سے محمد آصف کو بلغاریہ بھیجنے کی ضد پر قائم نہ رہتے تو آج اٹھارہ سال بعد پاکستان دوبارہ عالمی سنوکر چیمپیئن کیسے بنتا؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔