بھارت، باکسنگ ایسوسی ایشن کی رکنیت معطل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 09:17 GMT 14:17 PST
بھارتی باکسر

منگل کو بین الاقومی اولمپک کمیٹی نے بھارت کی اولمپک اسوسی ایشن کی رکنیت معطل کردی تھی

باکسنگ کی بین الاقوامی فیڈریشن نے بھارت کی باکسنگ ایسوسی ایشن کی رکنیت معطل کردی ہے کیونکہ اس کا الزام ہے کہ ادارے کے حالیہ انتخابات میں ’ممکنہ طور پر دھاندلی' ہوئی تھی۔

اس اعلان کے بعد بھارتی حکومت نے بھی باکسنگ اور تیراندازی ایسوسی ایشن کو غیر تسلیم شدہ قرار دیا ہے۔

لیکن ہندوستان کی غیر پیشہ وارانہ باکسنگ فیڈریشن (آئی اے بی ایف) کا کہنا ہے کہ اس کے عہدیداران کا انتخاب بالکل صاف شفاف طریقے سے کیا گیا تھا۔

بھارت میں کھیل کی دنیا کے لیے ایک ہی ہفتے میں یہ دوسری بری خبر ہے۔

منگل کو بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے بھارت کی اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی رکنیت معطل کر دی تھی کیونکہ اس کے خیال میں ’داغدار‘ لوگوں کو عہدیدار منتخب کیے جانے کا امکان تھا۔

معطلی کے باوجود بدھ کو اس الیکشن میں للت بھانوٹ کو آئی او اے کا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔ دو ہزار دس کے دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد میں بے ضابطگیوں کے الزام میں انہوں نے کئی مہینے جیل میں گزارے تھے اور اب وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

وہ کانگریس کے لیڈر سریش کلماڈی کے قریبی ساتھی ہیں۔ مسٹر کلماڈی دولت مشترکہ کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ تھے اور کھیلوں کے بعد انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بین الاقوامی باکسنگ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ’انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کو معطل کیے جانے کی روشنی میں باکسنگ کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن نے چھ دسمبر کو یہ فیصلہ کیا ہے کہ بھارت کی ایمیچر باکسنگ ایسوسی ایشن کی رکنیت عارضی طور پر معطل کر دی جائے۔‘

ادارے کے مطابق ’اسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارتی ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابات میں ممکنہ طور پر دھاندلی ہوئی تھی ۔۔۔ اور اب وہ اس کی تفتیش کرے گی۔‘

بین الاقوامی فیڈریشن کے مطابق وہ اس بات کی تفتیش کرنا چاہتی ہے کہ ہریانہ کے سیاستدان ابھے سنگھ چوٹالہ نے باکسنگ فیڈریشن کے الیکشن میں کیا کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر چوٹالہ باکسنگ ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ ہیں اور حال ہی میں معطل شدہ اولمپک کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

مسٹر چوٹالہ کے برادر نسبتی ابھیشیک مٹوریا باکسنگ فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ وہ راجستھان میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں۔

مٹوریا نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے کہا کہ انتخابی عمل کے بارے میں عالمی فیڈریشن کو مکمل تفصیل فراہم کی گئی تھی۔ ’ہم نے ان کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ انتخاب میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی تھی اور صرف اس وجہ سے کہ الیکشن اتفاق رائے سے ہوا تھا، یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ باکسرز پر اس فیصلہ کا کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اگلی چیمپئن شپ میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور تب تک یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔

دو ہزار دس کے دولت مشترکہ کھیلوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے بعد سے حکومت نے سپورٹس کے اداروں کے کام کاج کا طریقہ بہتر اور زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کی ہے لیکن اسے طاقتور سیاستدانوں کی مخالفت کی وجہ سے زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے۔

ہندوستان میں کرکٹ اور ہاکی سمیت سپورٹس کے زیادہ تر نگراں اداروں کو سیاستدان ہی کنٹرول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بی جے پی کے لیڈر وجے کمار ملہوترا تقریباً چالیس سال سے تیراندازی ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں۔ وہ معطل شدہ اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب صدر بھی تھے۔

اولمپک اسوسی ایشن کی معطلی کے مطلب یہ ہے کہ فیصلہ واپس نہ لیے جانے تک بھارتی کھلاڑی اولمپکس میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔