’شوماکر کو واپسی نہیں کرنی چاہیے تھی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST

’میرے خیال میں شوماکر کو سات بار ٹائٹل جیتنے پر رک جانا چاہیے تھا بہ نسبت اب رکنے کے‘

فارمولا ون کے سربراہ برنی ایکلسٹن کا کہنا ہے کہ مائیکل شوماکر کو چاہیے تھا کہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کے بعد واپس نہ آتے۔

شوماکر نے ریٹائرمنٹ سے قبل سات عالمی ٹائٹل جیتے تھے۔ تاہم 2010 میں ریٹائرمنٹ سے واپسی پر مرسڈیز کی گاڑی کے ساتھ تین سالوں میں صرف ایک بار پوزیشن حاصل کرسکے۔

ایکلسٹن نے کہا ’وہ لوگ جو فارمولا ون میں نئے ہیں یا وہ مداح جو حال ہی میں اس کھیل کی جانب راغب ہوئے ہیں وہ لوگ اس شوماکر کو یاد رکھیں گے جو اس وقت ہیں نہ کہ وہ جو ریٹائرمنٹ سے قبل تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’لوگ شوماکر میں ہیرو نہیں دیکھتے بلکہ ایک ایسا انسان دیکھتے ہیں جو ناکام ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں شوماکر کو سات بار ٹائٹل جیتنے پر رک جانا چاہیے تھا بہ نسبت اب رکنے کے۔‘

شوماکر 2006 میں اس وقت ریٹائر ہوئے تھے جب اس سال سیزن میں سخت مقابلے کے بعد ان کو فرنینڈو الونسو سے شکست ہوئی۔

سنہ 2010 میں انہوں نے 41 سال کی عمر میں فارمولا ون میں واپسی کی۔ اس بار انہوں نے راس برون کے ساتھ مرسڈیز کی نئی ٹیم بنائی۔

تاہم وہ ہر سیزن میں مرسڈیز ہی کے نیکو راسبرگ سے پیچھے رہے۔

تاہم ایکلسٹن کا کہنا ہے کہ شوماکر کی ناقص پرفارمنس کے باوجود شوماکر کی دوبارہ ریٹائرمنٹ کھیل کے لیے ایک بڑا نقصان ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔