’ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سچن پر چھوڑ دیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 12:36 GMT 17:36 PST
سچن

سچن کے نام بلے بازی کے کئی ریکارڈز ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان سر ویوین رچرڈز نے کہا ہے کہ صرف سچن تندولکر ہی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کب کھیل سے ریٹائر ہونگے۔

انتالیس سالہ سچن تندولکر انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں ناکام رہے ہیں اور چار بار وہ دو ہندسوں میں بھی نہیں پہنچ سکے ہیں۔بعض مبصرین یہ رائے ظاہر کر رہے ہیں کہ اب انہیں ریٹائر ہو جانا چاہیے۔

انچالیس سالہ سچن تندولکر ناگپور میں انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں صرف دو رنز پر ہی بولڈ ہو گئے۔

بی بی سی ریڈیو پر ویوین رچرڈز نے کہا:’کوئی آدمی اتنا اہل نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ انہیں کب جانا چاہیے۔‘

تندولکر کے نام کرکٹ کے کئی ریکارڈز ہیں جن میں ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرح کی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سب سے زیادہ سنچری بنانے کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں پہلی بار تندولکر نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اپنے ریٹائرمنٹ کے متعلق غور کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں ایک سیریز کے بعد دوسری سیریز کی بنیاد پر سوچتے ہیں۔

سر ویویئن ریچرڈس

سر ویویئن ریچرڈس اپنے زمانے کے زبردست بلے باز تھے۔

بہرحال ویوین رچرڈز کا خیال ہے کہ ان کی جیسی اہلیت کے کھلاڑی جتنا دن چاہے کھیل سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جب آپ ایک بار ریٹائر ہو جاتے ہیں تو پھر آپ بہت زمانے کے لیے ریٹائر ہو جاتے ہیں اور یہ ایک طرح کی موت ہے۔ اس لیے اگر آپ زندہ ہیں اور آپ جو کر رہے اس میں آپ کو مزا آ رہا ہے تو پھر اسے جاری رکھنے میں کیا مضائقہ ہے، میرا یہی کہنا ہے۔‘

رچرڈز نے اپنے ریٹائر ہونے کے فیصلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ تندولکر کیوں کھیلتے رہنا چاہتا ہیے کیونکہ انھوں نے بھی اپنے ریٹائرمنٹ کے تین سال بعد انیس سو نوے میں پھر سے گلیمورگن کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا۔

ریچرڈس نے کہا کہ ’میں ایک زبردست مظاہرے کے بعد جانا چاہتا تھا‘ اور میں نے انیس سو ترانوے میں گلیمورگن کو سنڈے لیگ جیتنے میں مدد کی اور میں اس کی میٹھی یادوں کے ساتھ ریٹائر ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔