آصف سے کیے گئے وعدے تاحال وعدے ہی ہیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 00:41 GMT 05:41 PST
snooker asif

پاکستان میں کامیابی کے بعد کسی بھی شخص پر انعام و اکرام اور نوازشات کی بارش ہونے لگتی ہے لیکن کامیابی کی اس منزل تک پہنچنے کے لیے اس شخص کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کی تازہ ترین مثال حال ہی میں عالمی سنوکر چمپئن شپ جیتنے والے محمد آصف ہیں۔

محمد آصف کو اتنی بڑی کامیابی کے بعد وزیر کھیل میر ہزار خان بجرانی نے وزارت کھیل کی جانب سے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا جبکہ وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے پندرہ لاکھ اور سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں نے دس دس لاکہ روپے کی انعامی رقم دینے کا اعلان کیا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کاروباری شخصیت ملک ریاض نے انہیں گاڑی کا تحفہ دیا ہے۔

وزیر اعظم نے انعامی رقم کے ساتھ ساتھ نوکری بھی دینے کا وعدہ کیا، وہی نوکری جس کے حقدار تو محمد آصف اس وقت بھی تھے جب وہ عالمی کپ جیتنے سے پہلے قومی سطح پر سنوکر کے نمبر ایک کھلاڑی تھے۔

ان کے پاس نوکری تو نہیں تھی البتہ نمبر ایک ہونے کے سبب انہیں آٹھ ہزار روپے کامعمولی سا وظیفہ ضرور ملتا تھا۔

محمد آصف کے والدین اپنے نو بچوں کے ساتھ فیصل آباد کی جھنگ روڈ کی ایک گلی میں چار دہائیوں سے رہائش پزیر ہیں۔ محمد آصف کی والدہ ایک شاکر خاتون ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ مختصر آمدنی کے سبب بچوں کی معمولی خواہشات بھی پوری کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا تھا۔

محمد آصف نے بتایا کہ آغاز میں انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کسی بھی سنوکر کلب میں کھیلنے کے لیے ایک دن کے دو تین سو روپے درکار ہوتے ہیں جو اپنی جیب سے بھرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب محمد آصف نے پڑھائی چھوڑ کر سنوکر کھیلنا شروع کی تو وہ انہیں روکتیں تھیں کہ سنوکر کھیلنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی ڈھنگ کا کام کریں جس سے کچھ آمدنی بھی ہو۔

محمد آصف نے بتایا کہ آغاز میں انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کسی بھی سنوکر کلب میں کھیلنے کے لیے ایک دن کے دو تین سو روپے درکار ہوتے ہیں جو اپنی جیب سے بھرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔

سنوکر کےعالمی چمپئن کے دو بچے ہیں لیکن سنوکر کے اس پیشہ ور کھلاڑی کے پاس اتنی آمدنی نہیں تھی کہ وہ احسن انداز سے خاندان کی کفالت کر پائیں۔

محمد آصف نے کہا کہ یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے تمام سنوکر کے کھلاڑی بہت زیادہ مالی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ انہیں کوئی بھی ادارہ نوکری نہیں دیتا۔

محمد آصف کے بقول مالی مشکلات بہت زیادہ تھیں لیکن ان مشکلات نے ملک کے لیے کچھ کرنے کے ان کے جذبے کو کم نہیں ہونے دیا اور انہوں نےمحنت جاری رکھی اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

عالمی چمپین شپ میں محمد آصف کا مقابلہ برطانیہ کے گیری ولسن سے تھا جہاں سنوکر کے کھلاڑیوں کو قومی سطح کا مقابلہ جیتنے پر لاکھوں پاؤنڈ ملتے ہیں جبکہ پاکستان میں قومی سطح کا مقابلہ جیتنے والے کے لیے انعامی رقم محض پچاس ہزار روپے ہے۔

واضح رہے کہ محمد آصف کے لیے جن بڑی بڑی انعامی رقومات کا اعلان کیا گیا ہے وہ ابھی محض اعلان ہی ہیں اور یہ رقومات ملنے میں کتنا وقت لگتا ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن محمد آصف نے قوم کو جیت کا جو تحفہ دیا وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مالی مشکلات ناکامی کا جواز تو ہو سکتیں ہیں لیکن کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔