لانس آرمسٹرانگ پر ہرجانے کا دعویٰ

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 16:47 GMT 21:47 PST

آرمسٹرانگ سنہ دو ہزار پانچ میں سائیکنلگ سے ریٹائر ہو گئے تھے لیکن سنہ دو ہزار نو میں وہ دوبارہ کھیل میں واپس آ گئے

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز امریکی سائیکلسٹ لانس آرمسٹرانگ پر دس لاکھ پاؤنڈ ہرجانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

سنہ دو ہزار چار میں جب سنڈے ٹائمز نے لانس آرمسڑانگ پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام لگایا تھا تو انھوں نے ہتکِ عزت کا مقدمہ کر کے اخبار سے تین لاکھ پاؤنڈ وصول کیے تھے۔

حال ہی میں، کھیلوں میں ممنوعہ ادویات سے متعلق امریکہ کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ’یو ایس اے ڈی اے‘ نے لانس آرمسٹرانگ کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کا مجرم قرار دیتے ہوئے، ان کے سات ٹور ڈی فرانس اعزازات سے منسوخ کر دیے تھے اور ان پر سائیکلنگ میں حصہ لینے کی تاحیات پابندی بھی لگا دی تھی۔

آرمسٹرانگ سنہ دو ہزار پانچ میں سائیکنلگ سے ریٹائر ہو گئے تھے لیکن سنہ دو ہزار نو میں وہ دوبارہ کھیل میں واپس آ گئے اور انھوں نے اس دوران ایسٹینا اور ریڈیوشیک ٹیموں کی نمائندگی کی۔

یو ایس اے ڈی اے نے الزام لگایا تھا کہ انھوں نے سنہ انیس سو چھیانوے ہی سے ممنوعہ ادویات استعمال کرنا شروع کر دی تھیں جن میں خون بڑھانے والی دوا ای پی او، سٹیروئڈ اور انتقالِ خون شامل ہیں۔

آرمسٹرانگ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی تاہم انھوں نے خود پر عائد ہونے والے الزام کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اکتالیس سالہ لانس آرمسٹرانگ کو سنہ دو ہزار چار میں ایک کیس کی مد میں تین لاکھ پاؤنڈ ادا کیے تھے۔

اس کیس میں برطانوی اخبار نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ لانس آرمسٹرانگ نے ان کے ساتھ دھوکا کیا تھا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے آرمسٹرانگ سے تین لاکھ پاؤنڈ کے علاوہ اس کیس پر اٹھنے والے اخراجات بمعہ سود واپس ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سنڈے ٹائمز کے وکیل کی جانب سے آرمسٹرانگ کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان کی جانب سے دائر کیا جانے والا مقدمہ بے بنیاد تھا۔

خط میں آرمسٹرانگ سے کہا گیا ہے کہ آپ کا موقف کہ آپ نے کھیل کے دوران کبھی ممنوعہ ادویات استعمال نہیں کیں، غلط ثابت ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے سپورٹس چیف رپورٹر نے پہلی بار سنہ انیس سو ننانوے میں ٹور دی فرانس کا اعزاز جیتنے کے بعد آرمسٹرانگ کی کارکردگی پر سوال اٹھایا تھا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے سنہ دو ہزار چار میں ایک مضمون شائع کیا جس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ آرمسٹرانگ کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کے آرمسٹرانگ جواب دینے کے پابند ہیں۔

اس مضمون کے بعد آرمسٹرانگ کے وکلاء نے اخبار کے خلاف ایک مقدمے میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا مقصد آرمسٹرانگ کو جھوٹا قرار دینا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔