پانچ سال بعد پاک بھارت سیریز، پہلا میچ آج

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 دسمبر 2012 ,‭ 06:46 GMT 11:46 PST

پاکستان اور بھارت کے درمیان سنہ دو ہزار سات کے بعد کھیلے جانے والی سیریز کا پہلا میچ آج بنگلور میں کھیلا جائے گا۔

بنگلور میں آج شام کو پاکستان اور بھارت پہلے ٹی ٹوئنٹی میں مدِمقابل ہوں گے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان بھارت میں کھیلے جانے والا یہ پہلا ٹی ٹوئنٹی ہو گا۔

اس سیریز میں دو ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ میچ کھیلے جائیں گے۔

بھارت نے اپنے سکواڈ سے بولر ظہیر خان کو ڈراپ کردیا ہے۔ اس کے علاوہ سچن تندولکر ایک روزہ میچوں سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔ لیکن سہواگ نے ایک روزہ میچوں کے سکواڈ میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بنگلور سٹیڈیم میں سکیورٹی سخت ہے جہاں بم سکواڈ اور کھوجی کتوں کے علاوہ پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سنا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے کے خلاف سٹیڈیم کے باہر احتجاج کرے گی۔

تاہم پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی میچ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کا بھارت دورہ منسوخ کر دیا گیا تھا اور سنہ دو ہزار نو کے لیے کسی بھی آئی پی ایل ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے شدت پسند حملے کے بعد سے غیر ملکی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ نہیں کر رہی۔

نتیجہ یہ کہ دونوں ممالک کے ناظرین اپنے سخت ترین حریف کے خلاف میچ دیکھنے سے کئی سال سے محروم ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان جب بھی کرکٹ کی بات ہوتی ہے تو بحث کا دائرہ بائیس گز کی پچ اور کرکٹ کے میدان سے کافی بڑا ہو جاتا ہے۔

اس بار بھی پاکستانی ٹیم کے دورے کے موقع پر بات کھیل سے لے کر سیاست اور باہمی تعلقات تک پھیل گئی ہے۔

پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کے متعلق بات چيت جاری رہی۔ طویل کوششوں کے بعد، اس سال اکتوبر کے آخر میں بھارت کی مرکزی حکومت نے پاکستانی ٹیم کے دورے کی اجازت دے دی۔

سنہ دو ہزار چار میں جب بھارتی ٹیم پچیس سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے گئی، تو بھارتی ٹیم اور پاکستان گئے ہوئے بھارتی شائقین اور میڈیا کا لاہور سے لے کر اسلام آباد تک، ملتان سے لے کر پشاور تک، ہر شہر میں زوردار استقبال کیا گیا۔

اسی طرح جب ایک سال بعد پاکستان کی ٹیم بھارت آئی تو بھارت میں بھی لوگوں نے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیے۔ ان دوروں نے سرحد کے دونوں جانب کئی لوگوں کے دل کا غبار صاف کرنے کا کام کیا تھا۔

اس بار بھی پاکستان کے ساتھ کئی سابق کھلاڑی، عام ناظرین، جانے پہچانے چہرے اور سیاسی رہنماء بھی بھارت آئیں گے۔

پاکستان کے نئے تقرر کیے گئے بیٹنگ کوچ انضمام الحق نے یہ کہہ کر ذہنی جنگ کا راستہ کھول دیا ہے کہ ان کی ٹیم مضبوط ہے اور جیت کی امید کی جا سکتی ہے۔

گذشتہ کچھ وقت سے مشکلات سے دوچار ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی جانتے ہیں کہ اپنے سب سے بڑے حریف سے ہارنے کا مطلب ان کی کپتانی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔

بہرحال عمران خان اور کپل دیو کے عہد سے دونوں ٹیمیں آگے آ چکی ہیں اور یہ سمجھنے لگی ہیں کہ جیتنا تو ضروری ہے لیکن کرکٹ جنگ کا میدان نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔