کرکٹرز کی بہتری کے خواہاں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 20:11 GMT 01:11 PST

ٹونی گریگ ایک ملنسار انسان تھے: انتخاب عالم

انگلینڈ کے سابق کپتان اور کرکٹ کمنٹیٹر ٹونی گریگ کے انتقال پر پاکستان سمیت دنیا کے سبھی کرکٹرز اور شائقین افسردہ ہیں اور انہیں یاد کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان آصف اقبال کہتے ہیں کہ ٹونی گریگ سے ان کے تعلقات دیرینہ اور بہت مضبوط رہے، وہ ان کے خلاف کاؤنٹی کرکٹ میں بھی کھیلے اور انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی مدمقابل ہوئے۔

ٹونی گریگ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان میں کچھ کر دکھانے کی امنگ تھی۔ وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل کرکٹر نہیں تھے لیکن انہوں نے محنت سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی اور اپنے دور کے بڑے آل راؤنڈر کہلائے۔ انہیں انگلینڈ کی کپتانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

آصف اقبال ٹونی گریگ کی کیری پیکر سیریز کے دوران رفاقت کے بارے میں کہتے ہیں ’انہیں یاد ہے کہ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھی اور ٹونی گریگ چند وکلاء کے ساتھ وہاں پہنچے تھے اور ان سے کیری پیکر سیریز کے بارے میں جس انداز سے بات کی اور سمجھایا اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ یہ سب کچھ پیسے کے لیے نہیں کر رہے ہیں۔ ٹونی گریگ کرکٹرز اور کرکٹ کی بہتری چاہتے تھے‘۔

آصف اقبال کا کہنا ہے کہ ٹونی گریگ کو پتا تھا کہ کیری پیکر سیریز سے وابستگی میں کرکٹرز کے لیے بے پناہ مشکلات ہیں اور ان کرکٹرز کو پابندیوں اور کپتانی سے محرومی کی شکل میں یہ مشکلات برداشت بھی کرنی پڑیں لیکن انہیں یہ بھی پتا تھا کہ آنے والے برسوں میں کرکٹرز کو فوائد بھی حاصل ہوں گے اور آج کرکٹ جس شکل میں موجود ہے اس میں بڑا ہاتھ کیری پیکر سیریز کا بھی ہے جسے مخالفین نے مسخرہ کرکٹ کا نام دیا تھا۔

آصف اقبال کہتے ہیں کہ ٹونی گریگ کے ساتھ کیری پیکر کے رفقا میں ان کے علاوہ کلائیو لائیڈ اور ای این چیپل بھی شامل تھے۔

آصف اقبال کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ٹونی گریگ نے پہلی کمنٹری اسکائی پر کی تھی جس کے بعد وہ چینل نائن کا حصہ بنے جس کا کریڈٹ کیری پیکر کو جاتا ہے جنہوں نے ٹونی گریگ کو پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ٹونی گریگ اپنی آواز کے اتارچڑھاؤ اور عام سی بات کو بھی خوبصورتی سے بیان کرنے کی خوبی کے سبب سننے والوں کے دلوں میں گھر کرگئے حالانکہ جب وہ اس شعبے میں آئے اس وقت آسٹریلیا میں رچی بینو اور بل لاری جیسے بڑے نام کمنٹری میں موجود تھے ۔

سابق کپتان انتخاب عالم کو بھی وہ دن یاد آگئے جب وہ ٹونی گریگ کے ساتھ ریسٹ آف ورلڈ الیون کی طرف سے کھیلے تھے اور کاؤنٹی میں حریف کے طور پر کئی سال تک وہ ایک دوسرے کے مقابل آتے رہے۔

انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ ٹونی گریگ ایک ملنسار انسان تھےجن کے ساتھ گفتگو کرنے میں مزا آتا تھا ۔اکثر دوروں پر ان کے ساتھ کھانے پر جانا ہوا اور وہ وقت ان کی بذلہ سنجی کے سبب بہت ہی اچھا گزرا۔

جاوید میانداد بھی ٹونی گریگ کی صلاحیتوں کے معترف رہے ہیں۔ایک نوجوان کی حیثیت سے جب انہوں نے سسیکس کاؤنٹی کی طرف سے کرکٹ کھیلی تو وہاں انہیں ٹونی گریگ کے تجربے اور رہنمائی کا بہت فائدہ ہوا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔