پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ’ٹیم آف دی ایئر‘ کا اعزاز

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 22:52 GMT 03:52 PST
پاکستانی ٹیم

دلّی میں منعقدہ سی ایٹ کرکٹ ریٹنگ انعام کی رنگارنگ تقریب میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ’ٹیم آف دی ایئر‘ کے اعزاز سے نوازا گیا وہیں بھارت کے ویراٹ کوہلی کو سال دوہزار گیارہ بارہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹر آف دی ایئر کے خطاب سے نوازا گیا۔

ایشیئن بریڈ مین کے نام سے جانے جانے والے پاکستان کے سابق کپتان ظہیر عباس کو لائف ٹائم اعزاز سے نوازا گیا اور بھارت اور پاکستان کے لیے مخصوص اعزازات میں پاکستان کے انضمام الحق کو ونڈے کے بہترین بلے باز کا اعزاز دیا گیا جبکہ بھارت کے سنیل گاوسکر کو ٹیسٹ کے بہترین بلے باز کے اعزاز سے نوازا گیا۔

بھارت کے آل راؤنڈر کپل دیو کو اگر ٹیسٹ کے بہترین بالر کے اعزاز سے نوازا گیا تو ون ڈے کے بہترین بولر کا اعزاز وسیم اکرم کو دیا گیا۔

پاکستان کے سابق کرکٹر سعید انور کو لوگوں کے پسندیدہ کرکٹر کا اعزاز دیا گیا۔

پاکستان کی ٹیم کا ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ’پاکستان ٹیم کی جانب سے یہ اعزاز لینا ان کے لیے بڑے فخر کی بات ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’اس سے قبل انیس سو ننانوے میں پاکستان ٹیم کو یہ اعزاز دیا گیا تھا اور میں نے پاکستان کی طرف سے اسے لیا تھا اور آج پھر مجھے یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ میں یہ انعام حاصل کر رہا ہوں‘۔

ظہیر عباس

ظہیر عباس کو لائف ٹائم ایوارڈ دیا گیا۔

جمعہ کی شام دلی کے لیے بہت خاص تھی کیونکہ بھارت اور پاکستان کے بڑے کرکٹر ایک جگہ موجود تھے اور اپنی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ کرکٹ کی ان شخصیات نے اپنے نئے اور پرانے قصے سناکر اپنے چاہنے والو کا دل خوش کر دیا۔

سب سے نوجوان ہندوستانی کھلاڑی کے لیے انمکت چند کو ایوارڈ دیتے وقت جب سنیل گاوسکر نے ان سے ان کے نام ’انمکت‘ کا مطلب پوچھا تو انمکت نے کہا۔ یہ ایک مصرعہ کے معنی کی طرح ہے، ہم پنچھی انمکت گگن کے، یعنی جن کے لیے کوئی باؤنڈری یا حد نہیں ہوتی تو گواسکر نے چٹکی لیتے ہوئے کہا، اسی لیے تو تم چھکے زیادہ لگاتے ہو اور باؤنڈري کم۔

ویسے گواسکر کے لیے بھی ایک لمحہ ایسا آیا جب تقریب میں ہنسی کے فوارے پھوٹ پڑے۔ دراصل جب پاکستان کے سابق کپتان ظہیر عباس کو لائف ٹائم ایوارڈ کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو رميز راجہ نے گواسکر سے کہا کہ آپ نے ظہیر عباس کا وکٹ حاصل کرنے کے لیے کون سی گیند کی تھی، تیز، باؤنسر یا گگلي؟ جواب میں گواسکر نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا، ہماری دوستی تو بہت پرانی ہے 1971 سے۔ یہ تو ظہیر نے ہی سوچا کہ چلو اس کو وکٹ دے دیتے ہیں ورنہ ریٹائر ہونے تک انہیں تو وکٹ ملنے سے رہی۔

اس موقع پر جب ظہیر عباس سے ان کی بہترین بلے بازی کا راز پوچھا گیا تو انہوں نے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ مشق کے دوران وکٹ کیپر وسیم باری کو کہتے تھے کہ وہ ان کی خامیوں کے بارے میں بتائیں۔ ایسے ہی ایک موقعہ پر انہوں نے باری کو ذمہ داری دی لیکن تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے پیچھے مڑكر دیکھا تو باری وہاں نہیں تھے انہوں باری سے پوچھا کہ کیا ہوا بھائی تم چلے کیوں گئے تو باری نے پیار سے گالی دیتے ہوئے کہا کہ ... ’ تو کوئی بال چھڈےگا تا ای تو دسےگا کتھے غلطتي کی‘۔

گاوسکر اور کپل دیو

گاوسکر اور کپل دیو کو ٹیسٹ کے بہترین بلے باز اور گیند باز کا خطاب دیا گیا۔

ویسے تو اس تقریب میں بہت سے یادگار لمحے آئے لیکن رميز راجہ اور سابق کپتان انضمام الحق کے درمیان ہوئی چہلبازی نے تو ہنسی کی محفل سجا دی۔ رميز نے کہا کہ میری کتاب کے حساب سے پاکستان نے کبھی اتنا’کول‘ کھلاڑی پیدا نہیں کیا ہے جتنا زیادہ دباؤ والا ماحول اتنے ہی آپ پر سکون، کیا ہے راز .....؟ انضمام نے کہا: 'دباؤ تو مجھ پر بھی ہوتا تھا شاید دکھائی نہیں دیتا تھا دراصل 1992 میں عالمی کپ کے فائنل میں جب میں کپتان عمران خان کے ساتھ کھیل رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ یہ جونوے ہزار کی بھیڑ یہاں آئی ہے ان کے سامنے یہ سوچ کر کھیلو کہ یہ تمہیں ہی دیکھنے آئی ہے۔ اپنے اوپر بھروسہ رکھو، بس یہ دو الفاظ میں نے یاد رکھے۔ اس کے بعد رميز نے پوچھا یادگار رن آؤٹ؟ انہوں نے کہا - بہت سارے۔

اس تقریب میں قصے تو بہت تھے لیکن باتوں باتوں میں غیر ملکی كوچز کو حوالے سے پاکستان کے سابق کپتان اور فاسٹ بولر وسیم اکرم اپنے دل کی بات کہہ دی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ پاکستان کے لیے کھیل رہے تھے تو اس وقت پاکستان نے انگلینڈ کے جیفری بائکاٹ کو بہت سارے پیسے دے کر دو ہفتے تک کوچنگ کے لیے رکھا۔ یہ فیصلا اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین کا تھا جو سمجھتے تھے کہ انہیں کرکٹ کی بڑی سمجھ ہے۔ بائکاٹ آئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دینی شروع کی۔ میں دور سے دیکھ رہا تھا کہ قذافی سٹیڈیم میں بالکل بيچوبيچ نوجوان کرکٹر عمران نذیر میدان کے پچ چکر لگانے کے بعد بائكاٹ کے سامنے ہاں، ہاں میں سر ہلا رہے تھے۔ تربیت ختم ہونے کے بعد میں نے اس سے پنجابی میں پوچھا - تو کیا کر رہا تھا، کجھ سمجھ میں آئی؟ عمران بولا - نہیں. میں نے کہا - تو تو پھر ہاں-ہاں میں سر کیوں ہلا رہا تھا، تو عمران بولا - اگر نا - نا کرتا تو وہ دو گھنٹے اور بولتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔