پاکستان ’کلین سوئیپ‘ کر سکتا ہے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 22:39 GMT 03:39 PST

صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ وہ دھونی کو قصور وار نہیں ٹھہراتے

پاکستان میں کرکٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت میں جاری دو طرفہ کرکٹ سیریز میں پاکستان کی ٹیم تیسرے ایک روزہ میچ میں بھی بھارت کو شکست سے دو چار کر سکتی ہے۔

پاکستان کی ٹیم کو سیریز میں 0-2 سے برتری حاصل ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تیسرے ایک روزہ میچ کا میدان اتوار کو دلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں سجے گا۔

اقوام متحدہ نے اس میچ کو پولیو کے مرض کے خلاف مہم کے لیے وقف کیا ہے اور اسے ’بول آؤٹ پولیو‘ کا نام دیا گیا ہے۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو نے کہا کہ دو میچز میں شکست کے بعد بھارتی ٹیم کا مورال (یعنی جذبہ) کافی کمزور ہے۔

انھوں نے کہا اس پر طرہ یہ ہے کہ بھارتی ٹیم کے لیے سب سے اچھی کارکردگی دکھانے والے بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کی اس میچ میں شرکت مشکوک ہے۔

مہندر سنگھ دھونی کی جگہ سلیکٹرز نے وکٹ کیپر دینش کارتک کو بلایا ہے۔

صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ عام طور پر کسی ٹیم کے باقائدہ کھلاڑیوں میں سے ایک یا دو کا خراب دور چل رہا ہوتا ہے لیکن بھارتی ٹیم کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے چھ سات کھلاڑی آوٹ آف فارم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ نہ تو بھارتی ٹیم کی بالنگ چل رہی ہے اور نہ ہی اس کی مشہور بیٹنگ لائن اپنے جوہر دکھا پا رہی ہے۔

سابق چیف سلیکٹر کے مطابق وہ دھونی کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ وہ خود تو اچھا کھیل رہے ہیں لیکن وہ جس بالر کو گیند تھماتے ہیں وہ اچھی گیند نہیں کراتا اور جس بلے باز کو بلا تھماتے ہیں وہ رنز نہیں بناتا تو بیچارے دھونی کیا کریں۔

صلاح الدین صلو نے پاکستان کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کھیل کے تینوں شعبوں بالنگ، بیٹنگ اور یہاں تک کہ اپنے کمزور شعبے فیلڈنگ میں بھی بھارت کی نسبت بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اس سیریز میں یکجا نظر آئی اور اگر دلی کے میچ میں بھی وہ اسی طرح متحد رہی تو جیت یقینی ہے۔

صلاح الدین صلو نے تسلیم کیا کہ بھارتی ٹیم تیسرے ون ڈے میں خوب زور لگائے گی اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے پاس وریندر سہواگ جیسے بہترین کھلاڑی ہیں اور یہ میچ جیتنا پاکستان کے لیے کافی مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے پاکستان کی ٹیم کو چاہیے کہ اس میچ میں ڈھیلے نہ پڑیں۔

صلاح الدین صلو نے پاکستان کی اوپنگ جوڑی کی کارکردگی کو خوب سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عامر سہیل اور سعید انور کے بعد پاکستان کو محمد حفیظ اور ناصر جمشید کی شکل میں بہترین اوپنگ جوڑی ملی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔