ہاکی لیگ:’پاکستانی کھلاڑیوں کی واپسی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 12:55 GMT 17:55 PST

پاکستان کے نو کھلاڑی ہاکی انڈیا لیگ میں شرکت کے لیے بھارت میں ہیں

بھارتی ہاکی کی گورننگ باڈی ’ہاکی انڈیا‘نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستانی کھلاڑی واپس وطن جا سکتے ہیں اور انہیں پورا معاوضہ دیا جائے گا۔

بھارت میں پیر سے آئی پی ایل کے طرز پر ہاکی انڈیا لیگ کا آغاز ہوا ہے جس کی مختلف ٹیموں نے نو پاکستانی کھلاڑیوں کو خریدا تھا۔

لیکن کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور اس میں مبینہ ہلاکتوں پر بطور احتجاج بعض سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیمیں پاکستان کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

دو روز قبل ممبئی میں شیوسینا کے احتجاج کے بعد ایک پریکٹس میچ اسی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا تھا اور پولیس نے اپنی سکیورٹی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو سٹیڈیم سے باہر نکالا تھا۔

انڈيا ہاکی کے سیکریٹری نریندر بترا نے دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال اٹھ رہے تھے کہ آخر اس بارے میں ہاکی انڈيا کا موقف کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ’جو نو پاکستانی کھلاڑی ہیں، ہم فرنچائیزیز کو یہ حق دیں گے کہ ان کے پاس متبادل کھلاڑیوں کا حق ہے، تو ایسے ہنگامی حالات میں وہ اس حق کا استعمال کر سکتے ہیں اور اسی بجٹ میں وہ دوسرے کھلاڑی خرید سکتے ہیں۔ اگر یہ پاکستانی کھلاڑی واپس جاتے ہیں تو معاہدے کے تحت ان کی جو اس برس کی رقم ہے وہ پوری ادا کی جائے گی‘۔

نریندر بترا نے کہا کہ ہاکی انڈیا چاہتی ہے کہ کھلاڑیوں کا نقصان نہ ہونے پائے اور جو بھی فیصلہ کیا گیا ہے وہ پاکستانی ہاکی فیڈریشن، لیگ کی ٹیموں اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن سے صلاح و مشورہ کے بعد کیا گيا ہے۔

"جو نو پاکستانی کھلاڑی ہیں، ہم فرنچائیزیز کو یہ حق دیں گے کہ ان کے پاس متبادل کھلاڑیوں کا حق ہے، تو ایسے ہنگامی حالات میں وہ اس حق کا استعمال کر سکتے ہیں اور اسی بجٹ میں وہ دوسرے کھلاڑی خرید سکتے ہیں۔ اگر یہ پاکستانی کھلاڑی واپس جاتے ہیں تو معاہدے کے تحت ان کی جو اس برس کی رقم ہے وہ پوری ادا کی جائیگي"

ہاکی انڈیا

نریندر بترا نے واضح الفاظ میں تو یہ نہیں کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اس ٹورنامنٹ میں اب نہیں کھلایا جائیگا لیکن ان کے لہجے سے یہ لگ رہا تھا کہ اب پاکستانی کھلاڑی اس ٹورنامنٹ سے باہر ہیں۔

شیو سینا کا کہنا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے خلاف وہ احتجاج کریں گے اور کسی بھی صورت میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بھارت میں بعض ٹی وی چینلز کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر مبینہ طور پر پاکستانی کی جانب سے فائرنگ میں ہلاکت کی خبروں کو اشتعال انگیز طریقے سے بار بار نشر کرتے رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے حلات پیدا ہوئے۔ بعض ٹی وی چینلز ہلاک ہونے والے فوجیوں کی آخری رسومات کے مناظر اور متاثرین کے اہل خانہ کے انٹرویو نشر کر رہے ہیں۔

ہاکی انڈیا لیگ میں پاکستان کے جو نو کھلاڑی آئے ہیں اس میں رضوان سینیئر اور رضوان جونیئر دلی کی ٹیم ’دہلی ویو رائڈرز‘ کی طرف سے کھیلتے ہیں۔

پاکستانی کھلاڑی سعید کاشف شاہ پنجاب کی ٹیم ’پنجاب واریئر‘ جبکہ شفقت رسول اور محمد عرفان ’رانچی رائینو‘ کا حصہ ہیں۔

محمود توثیق، محمود رشید، فرید احمد اور عمران بٹ ممبئی کی ٹیم ’ممبئی میجیشن‘ کی طرف سے کھیلتے ہیں۔

لیگ میں شامل پانچ ٹیموں میں سے ان نو کھلاڑیوں کو چار ٹیموں نے سولہ دسمبر کو دلی میں ہوئي نیلامی کے دوران خریدا تھا۔

ہاکی انڈیا لیگ کے ٹورنامنٹ کا آغاز پیر سے دلی میں ہوا اور اس کا اختتام دس فروری کو ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچي میں ہونا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔