’ہوٹلوں کا انکار‘، پاکستانی ٹیم سٹیڈیم میں رہائش پذیر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 23:15 GMT 04:15 PST

بھارت کے شہر کٹک کے ہوٹلوں نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کو اپنے یہاں ٹھہرانے سے انکار کر دیا ہے۔

بی بی سی ہندی کے مطابق ہوٹلوں کے اس رویے میں تب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی جب پولیس نے کہا کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے بہتر سے بہتر انتظامات کریں گی۔

پولیس نے شہر کے مخصوص فائیو سٹار ہوٹلوں کے انکار کے بعد کچھ تھری اور ٹو سٹار ہوٹلوں سے رابطہ کیا اور ان سے مہمان ٹیم کو ٹطہرانے کی بات کی لیکن انہوں نے کسی بھی طرح کا خطرہ لینے سے انکار کر دیا۔

تاہم اس حوالے سے پولیس اور ہوٹل انتظامیہ نے کھل کر کوئی بات نہیں کی ہے۔

نام ن بتانے کی شرط پر پر ایک بڑے ہوٹل کے منیجر نے بی بی سی سے کہا ’جب بڑے ہوٹل والے، جن کے پاس ہم سے زیادہ انسانی وسائل اور دیگر خصوصیات ہیں، پاکستانی ٹیم کو رکھ کر خطرہ نہیں اٹھانا چاہتے، تو ہم کیوں مصیبت مول لیں؟‘

پولیس کے یقین دہانی کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’آپ کو یاد ہوگا کچھ سال پہلے سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود بھارتی مرد کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ گریگ چیپل کو بھونیشور ہوائی اڈے پر کسی نے تھپڑ مار دیا تھا۔ ایسے میں پولیس کی یقین دہانی پر ہم کس طرح بھروسہ کر سکتے ہیں؟ کچھ ہو گیا تو ہمارے ہوٹل کی بدنامی ہوگی۔‘

تاہم میزبان اوڈشا کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری دعابے ہیرا اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ہوٹلوں نے مہمانوں کو ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔

"باربتي کے اندر رہنے اور نیٹس کرنے کی وجہ سے ٹیم فائدے میں رہے گی۔ اس سے کھلاڑی میدان اور پچ دونوں سے اچھی طرح عادی ہو جائیں گی۔"

کوچ باسط علی

ایسوسی ایشن کو پاکستانی ٹیم کو ٹھہرانے کا انتظام باربتي سٹیڈیم کے اندر بنے کلب میں کرنا پڑا ہے۔

جب ٹیم کو کلب میں ٹھہرانے کی وجہ پر ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ’یہ کوئی ایک یا دو دن کا معاملہ تو ہے نہیں۔ پاکستانی ٹیم پورے 15 دن یہاں رہے گی۔ ہوٹل سے سٹیڈیم آنے جانے میں کھلاڑیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی تھی اس لیے پولیس کے اعلیٰ حکام کی مشورے کے مطابق ہم نے ان کے رہنے کا انتظام اوسيے کلب میں کیا ہے۔‘

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کلب کا باضابطہ افتتاح ایک فروری کو ہونا ہے، لیکن ہوٹل کے منع کرنے کے بعد اسے فوراً تیار کرنا پڑا۔

پاکستانی ٹیم نے اس معاملے میں کیے گئے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو ٹیم کی پریکٹس کے بعد مینیجر عائشہ نے کہا ’ہم پریکٹس اور رہنے کے انتظامات سے پوری طرح مطمئن ہیں۔‘

کوچ باسط علی کا کہنا تھا کہ باربتي کے اندر رہنے اور نیٹس کرنے کی وجہ سے ٹیم فائدے میں رہے گی۔ ’اس سے کھلاڑی میدان اور پچ دونوں سے اچھی طرح عادی ہو جائیں گی۔‘

پاکستانی ٹیم اپنے تمام میچ باربتي میں کھیلے گی۔ پہلا میچ یکم فروری کو ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔