’روٹیشن پالیسی کبھی کام نہیں کرتی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 15:06 GMT 20:06 PST

آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی شین وارن نے کرکٹ آسٹریلیا کی ’روٹیشن پالیسی‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آسٹریلیا کے ایشز سیریز جیتنے کے امکانات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

معروف لیگ سپنر نے ایک بلاگ میں آسٹریلوی سلیکٹروں سے استدعا کی کہ وہ کرکٹ کی تینوں اقسام کے لیے ایک ہی ٹیم منتخب کریں۔

شین وارن نے اپنے بلاگ میں لکھا ’روٹیشن اور کھلاڑیوں کو آرام دینے کی پالیسی کبھی کام نہیں کرتی‘۔

ان کے مطابق ’آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے لیے آنے والے بارہ مہینے بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اگر ہم نے اس کے لیے کچھ نہ کیا تو ہم وہیں پہنچ جائیں گے جہاں ہم تیس برس پہلے تھے۔‘

واضح رہے کہ شین وارن سنہ انیس سو نوے سے لے کر سنہ دو ہزار کی ابتدا تک آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے۔

وہ آسٹریلوی ٹیم کی موجودہ کارکردگی کی وجہ سے پریشان ہیں۔

شین وارن نے آسٹریلیا کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار کرکٹ آسٹریلیا کے منتظمین اور ان کی پالیسی کو قرار دیا جس کے تحت کھلاڑیوں کو مختلف میچوں اور سیریز کے لیے آرام دیا جاتا ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے سات سو آٹھ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے شین وارن کے مطابق نتائج سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کام نہیں کر رہا۔

یاد رہے کہ آ‎سٹریلیا میں جاری بگ بیش ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں جھگڑا کرنے پر آسٹریلوی کرکٹر شین وارن کو ایک میچ کی پابندی اور جرمانے کی سزا دی گئی تھی۔

شین وارن اس میچ میں مخالف ٹیم رینیگیڈ سٹار کے خلاف میلبرن سٹار نامی ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے اور انہوں نے وکٹ کیپر کو گیند واپس کرتے ہوئے بلے باز مارلن سیموئلز کو مار دی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔