’مقابلہ کرنا ہے تو گیلی گیند سے مشق کریں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 14:03 GMT 19:03 PST

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی رمیز راجہ نے پاکستانی بلے بازوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انہیں جنوبی افریقہ کے پیس اٹیک کا اعتماد سے مقابلہ کرنا ہے تو انہیں گیلی ٹینس گیند سے باؤنسر کی مشق کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بلے بازوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بیگ میں ٹینس گیند رکھیں اور جب بھی وقت ملے اس کی پریکٹس کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رمیز راجہ خود گیلی ٹینس گیند سے شارٹ پچ گیندوں کو کھیلنے کی پریکٹس کرچکے ہیں یہ طریقہ سابق کپتان عمران خان نے ویسٹ انڈیز کے دورے میں متعارف کرایا تھا جب پاکستانی بلے بازوں کو تیز رفتار بالروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنوبی افریقہ کے بالرز باؤنسی وکٹوں پر برصغیر کی ٹیموں کو باؤنسرز اور شارٹ پچ گیندوں سے مرعوب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی بلے بازوں کو گھبرانا نہیں ہوگا اور دلیری سے بیٹنگ کرنی ہوگی ۔ان وکٹوں پر کھیلنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ڈرائیو کھیلنے سے گریز کریں کیونکہ اس میں سلپ میں کیچ ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ انہیں بیک فٹ پر شاٹس کھیلنے ہوں گے۔‘

رمیز راجہ نے کہا کہ اگر بلے بازوں نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور ہر اننگز میں تین سو سے زیادہ رنز بنائے تو یہ سیریز نہ صرف دلچسپ ہوگی بلکہ پاکستانی ٹیم میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کو حیران کر دے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز سے قبل ایک سے زیادہ سائیڈ میچز کھیلنے چاہیے تھے تاکہ بلے بازوں اور بولرز کو وہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا موقع مل جاتا، ایک سائیڈ میچ دنیا کی عالمی نمبر ایک ٹیم کے خلاف تیاری کے لحاظ سے کافی نہیں۔

"جنوبی افریقہ کے بالرز باؤنسی وکٹوں پر برصغیر کی ٹیموں کو باؤنسرز اور شارٹ پچ گیندوں سے مرعوب کرتے ہیں۔ پاکستانی بلے بازوں کو گھبرانا نہیں ہوگا اور دلیری سے بیٹنگ کرنی ہوگی ۔ان وکٹوں پر کھیلنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ڈرائیو کھیلنے سے گریز کریں کیونکہ اس میں سلپ میں کیچ ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ انہیں بیک فٹ پر شاٹس کھیلنے ہوں گے۔"

رمیز راجہ

رمیز راجہ کے خیال میں جنوبی افریقی وکٹوں پر سلپ فیلڈنگ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے اسی طرح بالروں کو بھی وکٹوں کی مناسبت سے درست لینتھ لائن سے بالنگ کرنی ہوگی اور غیرضروری شارٹ پچ گیندوں سے گریز کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس سیریز میں سعید اجمل کا کردار بہت اہم ہوگا ۔جنوبی افریقی بلے باز کسی طور انہیں آسان نہیں لیں گے اور ان کا امتحان ہوگا کہ وہ سعید اجمل کو کس طرح کھیلتے ہیں۔

پہلے ٹیسٹ سے قبل کسی بالر کے ان فٹ ہونے سے پہلے ہی مزید دو فاسٹ بالر جنوبی افریقہ بھیجے جانے کے بارے میں رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ اگر ٹیم منیجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان رابطہ مستحکم ہو تو اس طرح کی صورت حال پیدا نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ کپتان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کون کون سے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے اور اگر وہ اس بارے میں خود واضح ہے تو آسانی سے یہ بات سلیکشن کمیٹی تک پہنچاسکتا ہے اور سلیکشن کمیٹی اس کی بات پر قائل ہوسکتی ہے لیکن ایک دوسرے کی بات نہ سمجھنے کے سبب مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔