پاکستان سپر لیگ ، بڑے نام یا برائے نام

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 13:39 GMT 18:39 PST

پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سپر لیگ میں عالمی کرکٹ کے کئی بڑے نام شامل ہونگے جن میں سے چند کے ساتھ معاہدوں کی نوید بھی سنائی گئی ہے تاہم آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان کا خیال ہے کہ پاکستان کے خراب حالات بڑے کھلاڑیوں کی پاکستان آمد میں رکاوٹ ثابت ہونگے۔

احسان مانی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سپر لیگ میں صفِ اول کے کھلاڑی حصہ نہیں لیں گے کیونکہ اگر ہم ایمانداری سے بات کریں تو یہاں حالات اب بھی بہتر نہیں ہیں اور باہر کی دنیا کسی ایک شہر کے بجائے حالات کو پورے ملک کے تناظر میں دیکھتی ہے اور وہ سکیورٹی کی صورتحال کے لئے اپنے اپنے ملکوں کے سفارتخانے یا ہائی کمیشن سے رہنمائی لیتی ہے جن کی سفری ہدایات واضح ہیں کہ انتہائی ضروری کام کے سوا پاکستان کا سفر نہ کریں۔ ان حالات میں کسی بھی ٹیم کا اگلے دوسال تک پاکستان آنے کا امکان نظر نہیں آتا۔

احسان مانی نے کہا کہ سپر لیگ سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کی فوری امید نہ رکھی جائے کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ بڑے کرکٹرز اس میں حصہ لے سکیں گے۔ ریٹائرڈ اور نسبتاً کم شہرت کے حامل کرکٹرز ضرور آئیں گے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ان کرکٹرز کے ذریعے یہ پیغام دنیا کو ملے کہ پاکستان سکیورٹی کے لحاظ سے بہت خراب ملک نہیں ہے لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔

احسان مانی نے آئی سی سی کے سابق چیف ایگزیکٹیو ہارون لوگارٹ کی سپر لیگ سے وابستگی کے بارے میں کہا کہ ان کی وہ حیثیت نہیں ہے کہ جو وہ کہیں لوگ ان کی بات پر یقین کرلیں۔ وہ قابل شخص ہیں، کرکٹ کو سمجھتے ہیں، پاکستان کے حالات سے باخبر ہیں، لیکن لوگ ان سے ضرور یہ سوال کریں گے کہ جب وہ چیف ایگزیکٹیو تھے تو پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ کی میزبانی واپس لے لی گئی تھی اور اب وہ مختلف بات کررہے ہیں۔

احسان مانی نے اس بات پر سخت حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹرز کی عالمی تنظیم فیکا کو اعتماد میں لینے کی زحمت ہی نہیں کی۔اسے اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ وہ فیکا کو نہیں مانتی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی ہے ایسے میں آسٹریلیا جنوبی افریقہ اور دوسرے کرکٹ بورڈز اپنے اہم کرکٹرز کو سپر لیگ میں شرکت کی اجازت نہیں دینگے۔

شہریارخان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں اور دوسرے کرکٹ بورڈز سے ان کی انڈر نائنٹین اے اور اسکولز ٹیم کے دوروں کی بات کرنی چاہئے تاکہ اس کی بنیاد پر پھر انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ممکن ہوسکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔