آسٹریلیا: کھیلوں میں بڑے پیمانے پر ڈوپنگ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST
آسٹریلیا ڈوپنگ انکوائری

رپورٹ سے آسٹریلیا میں کھیل کے مداحوں پر برا اثر پڑے گا

آسٹریلیا میں طویل مدت تک چلنے والی تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ پروفیشنل کھیلوں میں ممنوعہ کاکردگی بڑھانے والی ادویات کا استعمال بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

ایک سال تک چلنے والی ان تحقیقات کے بعد آسٹریلین کرائم کمیشن یا اے سی سی نے کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ سائنسدان، کوچز اور سپورٹ سٹاف کارکردگی بڑھانے والی ادویات مہیا کرنے میں شامل تھے۔

اے سی سی نے کہا ہے کہ کئی کیسز میں ادویات منظم جرائم کے گروہوں نے مہیا کی ہیں۔

وزیرِ داخلہ جیسن کلیئر نے کہا ہے کہ یہ انکشافات ’ہلا دینے والے ہیں اور آسٹریلوی کھیلوں کے مداحوں کو برہم کریں گے۔‘

اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے صدر جان فاہے نے انہیں ’پریشان کن‘ کہا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں اس سے کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔

دارالحکومت کینبرا میں ایک اخباری کانفرنس میں ان تحقیقات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ آسٹریلیا کے کئی کلبوں کے متعدد کھلاڑیوں پر شبہ ہے کہ یا تو وہ ’پیپ ٹائیڈ، یعنی حیاتی کیمیا استعمال کر رہے ہیں یا پھر کرتے رہے ہیں، جو کہ اب اینٹی ڈوپنگ کے قوائد کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ دھوکہ ہے لیکن اس سے بھی برا ہے، یہ جرائم پیشہ لوگوں کی مدد سے دھوکہ دینا ہے‘۔

آسٹریلیا میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک برائنٹ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کا آسٹریلیا جیسی کھیلوں سے پیار کرنے والی قوم پر بہت برا اثر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ آسٹریلیا کے کھیلوں کے لیے ایک سیاہ دن ہے کیونکہ مداح پوچھ رہے ہیں کہ کون سے مرد کھلاڑیوں اور کون سی خواتین کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔