بلوچ نوجوانوں کی لاشیں کراچی سے برآمد

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 14:33 GMT 19:33 PST

بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پانچ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ قرار دیے گئے تھے۔

اس سے پہلے کراچی سے بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی کے کئی واقعات نظر آتے ہیں مگر لاشیں ملنے کا نیا رجحان سامنے آیا ہے۔

سرجانی کے علاقے سے پیر کو دو نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ لاشیں نادرن بائی پاس کے سامنے پڑی ہوئی تھیں۔ ایس ایچ او سرجانی اعجاز راجپر نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولین کی جیب میں پرچی موجود تھی جن پر ان کے نام نعمت اللہ اور اختر رند تحریر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو گھلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان کے لواحقین کو اطلاع کر دی گئی تھی جو میتیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

ان تشدد شدہ لاشوں میں سے چار سرجانی اور ایک لاش ملیر کے ویران علاقے سے ملی ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیئرمین قدیر ریکی نے بتایا نعمت اللہ اور اختر علی کا تعلق تربت سے تھا۔

نعمت اللہ کو 22 اکتوبر سنہ 2012 کو بوڑھی ماں کی موجودگی میں بس سے حراست میں لیا گیا تھا جس کے کئی چشم دید گواہ ہیں۔

قدیر بلوچ کے مطابق 24 سالہ اختر علی رند کو 24 اکتوبر سنہ 2012 کو اس وقت حراست میں لے گیا جب وہ تربت میں ایک میڈیکل سٹور سے دوائی خرید رہے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے 30 جنوری کو سرجانی کے علاقے سے ہارون بلوچ اور رزاق پالاری کی تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں، دونوں نوجوان گوادر کے علاقے پشکان سے لاپتا تھے۔ اس سے پہلے 28 جنوری کو عدنان بلوچ کی ملیر کے علاقے سے لاش ملی تھی، جو مند کے علاقے سے کئی ماہ سے لاپتا تھے۔

سرجانی ٹاؤن کے علاقے سے زیادہ لاشیں کیوں مل رہی ہیں، اس بارے میں ایس ایچ او سرجانی اعجاز راجپر کا کہنا ہے کہ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں تاہم یہ علاقہ وسیع اور ویران ہے اس لیے انہیں مارکر یہاں پھینک دیا جاتا ہے تاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں اغوا کر کے یہاں لایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں آئی جی سندھ فیاض لغاری نے بیان دیا تھا کہ پولیس نے طالبان کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے کے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور اسی وجہ سے ہی پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کسی واقعے کی نشاندہی نہیں کی اور نہ گرفتار ہونے والوں کے نام ظاہر کیے تھے۔

غیر سرکاری ادارے وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر ریکی کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے نوجوانوں کو حراست میں لے کر کراچی کے عقوبت خانے میں منتقل کیا جاتا ہے اور جب وہ تشدد میں ہلاک ہوجاتے ہیں تو ان کی لاشیں یہاں ہی پھینک دی جاتی ہیں جو پہلے صرف بلوچستان سے برآمد ہوتی تھیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے اور ایف سی، بلوچ نوجوانوں کی حراست اور ان پر تشدد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔