’کمرے سےگولیوں، چیخوں کی آوازیں سنیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 01:24 GMT 06:24 PST
آسکر پسٹوریئس

آسکر پسٹوریئس کا بیان جب عدالت میں پڑھا گیا تو وہ رونے لگ پڑے

جنوبی افریقہ کے اولمپکس اور پیرا اولمپکس کے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کی گرل فرینڈ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک گواہ نے بتایا کہ جس رات ریوا سٹین کیمپ ہلاک ہوئیں، انہوں نے گولیوں کے بعد چیخنے کی آوازیں سنیں جس کے بعد مزید گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔

یہ بات ایک پولیس افسر نے کہی جبکہ پولیس نے پیسٹوریئس کی ضمانت کے حوالے سے کہا کہ ان کے پرواز کر جانے کا خطرہ ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کا بدھ کو دوسرا دن ہے جو پریٹوریا میں زیر سماعت ہے ہیں۔

اس سے قبل آسکر پسٹوریئس نے اپنی گرل فرینڈ کے قتل سے انکار کیا اور کہا کہ اس پر گولی غلطی فہمی سے چلی کیونکہ انہیں لگا تھا کہ کوئی زبردستی گھر میں گھس آیا ہے۔

چھبیس سالہ پسٹوریئس کے قتل کا مکمل مقدمہ کئی مہینوں کے بعد شروع ہونے کا امکان ہے۔

اس مقدمے میں دلچسپی بہت زیادہ ہے اور صحافیوں اور دیکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ایک صحافی تو اس عمل کے دوران بے ہوش بھی ہو گئے۔

بدھ کے دن عدالت میں مقدمے کی سماعت کے آغاز پر ایک گواہ نے بتایا کہ انہوں نے چودہ فروری کو دو بجے سے تین بجے کے درمیان ’مسلسل تیز آواز میں باتیں جو لڑائی کی طرح لگ رہی تھی سنیں‘۔

پہلے پولیس اہلکار ہلٹن بوتھا جو جائے وقوعہ پر پہنچے نے بتایا کہ ایک اور گواہ نے بھی انہیں یہی بات بتائی۔

چیخنے اور گولیاں چلنے کی آواز

"ہمارے پاس ایک شخص کا بیان ہے جنہوں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی جنہیں سن کر وہ اپنی بالکونی میں گئے جہاں سے انہوں نے دیکھا کہ روشنی جل رہی تھی، اس کے بعد انہوں نے ایک خاتون کی دو تین بار چیخنے کی آوازیں سنیں جس کے بعد مزید گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں"

بوتھا

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بوتھا نے بتایا کہ’ہمارے پاس ایک شخص کا بیان ہے جنہوں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی جنہیں سن کر وہ اپنی بالکونی میں گئے جہاں سے انہوں نے دیکھا کہ روشنی جل رہی تھی، اس کے بعد انہوں نے ایک خاتون کی دو تین بار چیخنے کی آوازیں سنیں جس کے بعد مزید گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں‘۔

دوسری جانب سے پسٹوریئس کا دعویٰ ہے کہ وہ فائرنگ سے چند لمحے قبل تک سو رہے تھے اور دونوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی لڑائی یا بحث نہیں ہوئی تھی۔

اس سے قبل بوتھا نے بتایا کہ وہ چار بج کر پندرہ منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے ریوا سٹین کیمپ کو فرش پر مردہ حالت میں پایا۔

ریوا سٹین کیمپ نے سفید جانگیا پہنا ہوا تھا اور کالی بنیان پہنی ہوئی تھی جس سے استغاثہ کے دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ انہوں نے کپڑے پہنے ہوئے تھے نہ کہ تولیہ لپیٹا ہوا تھا۔

ایک وکیل اور پسٹوریئس کے بھائی جائے وقوعہ پر پہلے سے ہی موجود تھے۔

بوتھا نے کہا کہ پسٹوریئس پر بغیر لائسنس کے ہتھیار رکھنے کے الزام میں بھی فرد جرم عائد ہو سکتا ہے۔

انہوں نے عدالت میں اپنی ضمانت کی کارروائی کے دوران کہا کہ وہ اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ سے محبت کرتے تھے اور ان کا اسے مارنے کا کبھی ارادہ نہیں تھا۔

جنوبی افریقہ میں استغاثہ کے وکیل آسکر پسٹوریئس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی گرل فرینڈ کو قتل کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آسکر پسٹوریئس نے جان بوجھ کر اپنی گرل فرینڈ پر غسل خانے کے بند دروازے کے باہر سے گولی چلائی۔

عدالت میں جب آسکر پسٹوریئس پر باضابطہ الزام عائد کیا جا رہا تھا تو وہ زار و قطار رونے لگے تھے۔

یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب ریوا سٹین کیمپ کا خاندان ان کی آخری رسومات ادا کر رہا تھا۔

اس مقدمے نے جنوبی افریقہ اور پوری دنیا میں پسٹوریئس کے مداحوں کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ پسٹوریئس کو جنوبی افریقہ کے قومی ہیروؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

پسٹوریئس کاربن فائبر کی بنی ٹانگیں پہن کر دوڑ میں حصہ لیتے ہیں۔ پیدائشی طور پر ان کی دونوں ٹانگوں میں فبولا ہڈی نہیں تھی۔

وہ 2012 کے لندن اولمپکس میں 400 میٹر کی دوڑ میں سیمی فائنل تک پہنچے تھے۔ پیرالمپکس میں انھوں نے T44 200 میں چاندی کا تمغہ، 4x100 ریلے میں سونے کا تمغہ، اور T44 400 میں سونے کا تمغہ جیت کر پیرالمپک ریکارڈ قائم کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔