حیدرآباد:مرلی وجے اور پجارا کی سنچریاں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 11:05 GMT 16:05 PST

مرلی وجے نے دو چھکوں اور سولہ چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی

حیدرآباد میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن چتیشور پجارا اور مرلی وجے کی سنچریوں کی بدولت بھارتی ٹیم ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔

اتوار کو کھیل کے اختتام پر بھارت نے صرف ایک وکٹ کے نقصان پر تین سو گیارہ رنز بنا لیے تھے اور اسے آسٹریلیا پر 74 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

دوسرے دن جب بھارت نے اپنی پہلی اننگز دوبارہ شروع کی تو اوپنر وریندر سہواگ کے ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور محض چھ رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔

تاہم اس ابتدائی نقصان کے بعد چتیشور پجارا اور مرلی وجے نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کی اور آسٹریلوی بولرز کو مزید کوئی کامیابی حاصل نہ کرنے دی۔

چائے کے وقفے کے بعد پہلے پجارا اور پھر مرلی وجے نے سنچری مکمل کی۔ جب کھیل ختم ہوا تو بجارا 162 جبکہ وجے 129 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے اور ان دونوں بلے بازوں کے مابین 294 رنز کی شراکت ہو چکی ہے۔

اس سے قبل آسٹریلیا نے میچ کے پہلے روز اپنی پہلی اننگز نو وکٹوں کے نقصان پر 237 رنز بنا کر ڈیکلیئر کر دی تھی۔

اس اننگز کی خاص بات کپتان مائیکل کلارک اور وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کی پانچویں وکٹ کے لیے 145 رنز کی عمدہ شراکت تھی جس کی بدولت ہی آسٹریلوی ٹیم اس سکور تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔

مائیکل کلارک ’نروس نائنٹیز‘ کا شکار ہوئے اور 91 رنز بنا کر جدیجہ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ مائیکل کلارک نے سیریز کے پہلے میچ کی پہلی اننگز میں سنچری بنائی تھی تاہم وہ اپنی ٹیم کو شکست سے بچانے میں ناکام رہے تھے۔

بھارت کی طرف سے بھونیشور کمار اور جدیجا نے تین تین وکٹیں لیں جبکہ ہربھجن سنگھ نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور ایشون کے حصے میں ایک وکٹ آئی تھی۔

بھارت کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر سے برتری حاصل ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔