قطر:ورلڈ کپ کا انعقاد موسمِ سرما میں ممکن

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 12:41 GMT 17:41 PST

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے پہلی بار اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ قطر میں منعقد ہونے والا دو ہزار بائیس کا فٹبال عالمی کپ شاید موسمِ سرما میں منعقد کیا جائے۔

فیفا کے جنرل سیکرٹری جیروم ویلکی کا کہنا ہے کہ اگر طبی طور پر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ قطر میں شدیدگرمی میں کھیلنا کھلاڑیوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے تو ٹورنامنٹ کی موسمِ سرما میں منتقلی ممکن ہے۔

فیفا اس سے پہلے کہتی رہی ہے کہ اس بارے میں درخواست صرف قطر ہی پیش کر سکتا ہے جبکہ قطر کی حکومت نے اس بات کی ذمہ داری فیفا پر ڈالی ہے کہ یہ فیصلہ فیفا ہی کو کرنا ہو گا۔

اب لگتا یہ ہے کہ شاید اس گو مگوں کیفیت کا خاتمہ ہو سکے گا اور کسی فیصلے پر پہنچا جا سکے گا۔

جیروم ویلکی کا اب کہنا ہے کہ اگر یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ چالیس سیلسئیس سے اوپر کے درجہ حرارت میں کھیلنے سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو فیفا کی اعلیٰ انتظامی کونسل یہ فیصلہ کر سکے گی کہ کھیلوں کو موسمِ سرما میں منتقل کرنا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’شاید فیفا کی اعلیٰ کونسل یہ کہے کہ چونکہ اتنی گرمی میں کھیلنا طبی طور پر خطرناک ہو سکتا ہے تو اس لیے کھیلوں کو مومِ سرما میں منتقل کر دیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت تک کہ جب تک ہم عالمی کیلینڈر کو حتمی طور پر طے نہیں کر لیتے کوئی بھی تبدیلی کی جا سکتی ہے اور تمام متبادل صورتوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ عالمی کپ دو ہزار بائیس میں ہے جس سے پہلے دو عالمی کپ ہم نے کھیلنے ہیں تو ابھی کافی وقت ہے۔‘

ویلکی پر اعتماد ہیں کہ کھیلوں کو موسمِ سرما میں منعقد کرنے سے فیفا کے خلاف امریکہ، جنوبی کوریا، جاپان اور آسٹریلیا کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکیں گے جن کے مقابلے میں قطر کو ان کھیلوں کے انعقاد کے لیے چنا گیا تھا۔

قطر کا کہنا ہے کہ وہ ان مقابلوں کا انعقاد ایئرکنڈیشنڈ سٹیڈیم میں کرے گا مگر فیفا کے سربراہ سیپ بلیٹر کہ چکے ہیں کہ ٹیموں کے شائقین کے لیے اتنی گرمی برداشت کرنا شاید ممکن نہ ہو۔

یورپ میں فٹبال کی تنظیم یوایفا کے سربراہ مِشل پلیٹینی نے اس بارے میں حتمی فیصلے کرنے کے لیے کہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اتنی گرمی کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گی اور کھیلوں کو موسمِ سرما میں منعقد کرنا ہی بہتر فیصلہ ہو گا جو جلد از جلد کر لیا جانا چاہیے۔

شمالی امریکہ، وسطی امریکہ اور کیریبین میں فٹبال کی انتظامی تنظیم کے سربراہ جیفری ویب اس سے متفق نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’تاریخی طور پر فٹبال کے عالمی مقابلے جون میں منعقد ہوتے ہیں اور ہم یہی چاہیں گے کہ یہ جون میں ہی منعقد کیے جائیں۔‘

اگر یہ مقابلے موسمِ سرما میں منتقل کر دیے جاتے ہیں تو اس سے پریمیئر لیگ کے یورپی مقابلوں میں رخنہ پڑے گا جس کی وجہ سے پریمیئر لیگ کے رکن بھی اس کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔