’معطلی میں ماضی کے واقعات کا بھی عمل دخل‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 13:04 GMT 18:04 PST

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ ٹیم میں سخت ڈسپلن کی بدولت آسٹریلیا کو ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر واپس آنے کے لیے مدد ملے گی۔

جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے چوالیس سالہ مکی آرتھر آسٹریلوی کرکٹ کلچر میں تبدیلی لانے کے لیے پر عزم ہیں۔

مکی آرتھر کے مطابق وہ آسٹریلوی ٹیم کے چند ارکان کی بڑھتی ہوئی بےاحتیاطی کی وجہ سے مطمئین نہیں تھے اور انہیں امید ہے کہ ٹیم سے چار کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے کے بعد باقی سکواڈ کے سلوک میں بہتری آئے گی۔

آسٹریلوی کوچ نے کرکٹ آسٹریلیا بلاک میں لکھا کہ شین واٹسن، جیمز پیٹنسن، مچل جانسن اور عثمان خواجہ کو معطل کرنے کا فیصلہ کسی ایک لمحے کے دوران ٹیم انتظامیہ کی حکم عدولی کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ یہ ماضی میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کھلاڑی ٹیم کے اجلاس میں لیٹ آتے تھے، غیر مناسب لباس پہنتے تھے، زبان درازی اور نافرمانی کرتے تھے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا نے بھارت کے خلاف تیسرے کرکٹ ٹیسٹ سے قبل چار کھلاڑیوں نائب کپتان شین واٹسن، جیمز پیٹنسن، مچل جانسن اور عثمان خواجہ کو اپنی اور ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مانگی گئی تجاویز دینے میں ناکامی پر معطل کر دیا تھا۔

آسٹریلیا کو چنئی میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹوں جبکہ حیدرآباد میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 135 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

آسٹریلوی ٹیم رواں برس دس جولائی سے انگلینڈ کے خلاف ٹرینٹ برج میں شروع ہونے والے ٹیسٹ سے ایشز سیریز کا آغاز کرے گی۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم جون سنہ دو ہزار تین سے لیکر اگست سنہ دو ہزار نو کے درمیان چوہتر مہینوں تک ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رہی تاہم اب وہ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔