’نازی انداز‘، فٹبالر پر تاحیات پابندی

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 04:56 GMT 09:56 PST
جیورگوس

فٹبالر پر بظاہر نازی انداز میں سلامی دینے پر تاحیات پابندی

بظاہر نازیوں کے طریقے سے سیلوٹ کرنے پر یونان کے 20 سالہ فٹ بال کھلاڑی پر قومی ٹیم کی جانب سے کھیلنے پر تاحیات پابندی لگا دی گئی ہے۔

ہفتے کو سوپر لیگ کے ایک میچ میں اپنی ٹیم اے ای کے ایتھنز کے لیے جیت کا گول داغنے کے بعد جيورگوس كیٹڈس نے جشن مناتے ہوئے نازی انداز میں سلامی دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس انداز کے معنی و مفہوم کے بارے میں علم نہیں تھا لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 میں کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی یوروپین اس قدر لاعلم ہو؟

میچ کے بعد انیس سال سے کم عمر کی یونانی ٹیم کے سابق کپتان نے ٹوئٹر پر اپنے اس عمل کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں فاشسٹ نہیں ہوں، میں ایسا ہرگز نہیں کرتا اگر مجھے اس کا علم ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔‘

ان کی ٹیم کے جرمن کوچ کا بھی کہنا ہے کہ ان کے کھلاڑی اس سے لاعلم تھے۔

انھوں نے کہا ’وہ ابھی نوجوان ہیں اور کسی سیاسی نظریے کے حامل نہیں ہیں۔ انھوں نے ایسی سلامی انٹرنیٹ یا کسی اور جگہ دیکھی ہوگی اور انھوں نے بغیر اس کا مطلب جانے ایسا کیا۔‘

"نازیوں کے تئیں یورپ میں ابھی بھی دلچسپی ہے اس کے چھوٹی چھوٹی چیزیں اور اس کی تہذیب کافی حد تک موجود ہے، اس کا پاپولر کلچر ہے، فلم ہے اور اس کی علامتوں کی اب بھی نمائندگی ہو رہی ہے"

میتھیو گڈون

’میں سو فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جیورگوس کو یہ معلوم نہیں جو کچھ اس نے کیا ہے۔‘

بہر حال یونان کی فٹ بال فیڈریشن نے جيورگوس کی حرکت کو مشتعل کرنے والا عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نازيوں کے ظلم کا شکار ہونے والے متاثرین کی توہین ہوئی ہے اور قومی ٹیم کی جانب سے کھیلنے کے لیے ان پر تاحیات پابندی لگا دی گئي ہے۔

یونان میں انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست جماعت گولڈن ڈان کے رہنما کو مختلف ریلیوں میں نازی انداز میں سلامی دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گزشتہ سال انھوں نے کئی پارلیمانی سیٹیں بھی جیتیں۔

جو لوگ ہاتھ سیدھا کرکے کھلی ہتھیلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سے رومن سلام مراد لیتے ہیں۔

ایتھنز میں مقیم صحافی کرسٹوس میشیلیڈس کا کہنا ہے کہ ’گولڈن ڈان فٹ بال کلب کے شور مچانے والے طبقوں سے اپنی جماعت میں شامل کرنے کے لیے کافی کچھ کر رہی ہے۔‘

’ایسے ہی نوجوان ہیں جو اس پارٹی اور اس کی علامتوں سے حد درجہ متاثر ہیں، کالے کپڑے پہنتے ہیں، بال رکھنے کا اپنا انداز ہے اور بدن پر ٹیٹو بنواتے ہیں۔‘

پاؤلو کینیو

اس سے قبل پاؤلو کینیو پر ایک میچ کی پاپندی لگائی گئی تھی

وہ اس پارٹی کی حمایت اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ یونانی سیاست میں صفائی لائے گی اور یہ کہ وہ غیر ملکیوں کے خلاف ہے۔

ناٹنگھم یونیورسٹی میں سیاست میں انتہا پسندی کے ماہر میتھیو گڈون کا کہنا ہے کہ یہ بات گلے نہیں اترتی کہ کوئی نیونازی علامات سے پوری طرح نابلد ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یورپی سیاست کے حاشیے پر بہت ساری سیاسی جماعتیں ہیں جو نیونازی علامات کا استعمال کرتی ہیں اور وہ دائیں بازو کے خیالات کی حامل ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بطور خاص یہ جماعتیں جرمنی، آسٹریا اور برطانیہ میں کھیل میں درانداز ہوئی ہیں۔

فٹ بال کی تہذیب علامتی طور پر مضبوط ہے اور نیونازی کے انداز اس میں شامل ہو گئے ہیں۔

سنہ 2005 میں لازیو کے سٹرائکر پاؤلو دی کینیو پر اسی انداز میں سلامی دینے پر ایک میچ کی پابندی لگائی گئی تھی جس کے خلاف اپنی دلیل دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا وہ فاشسٹ تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ نسلی امتیاز نہیں رکھتے ہیں۔

گڈون کا کہنا ہے ’نازیوں کے تئیں یورپ میں ابھی بھی دلچسپی ہے اس کے چھوٹی چھوٹی چیزیں اور اس کی تہذیب کافی حد تک موجود ہے، اس کا مقبول کلچر ہے، فلم ہے اور اس کی علامتوں کی اب بھی نمائندگی ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ کوئی حاشیہ کا معاملہ نہیں ہے اس لیے جدید یونان میں اس لاعلمی کو ہضم کرنا مشکل ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔