رائیڈر کوما میں، ایک شخص زیرِ حراست

Image caption پولیس نے بار کے باہر نصب کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے

نیوزی لینڈ میں پولیس نے کہا ہے کہ دارالحکومت کرائسٹ چرچ کے ایک شراب خانے کے باہر دو حملوں میں زخمی ہونے والے کرکٹر جیسی رائیڈر کوما میں ہیں۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے رائیڈر پر حملے کے معاملے میں ایک 20 سالہ شخص کو حراست میں لیا ہے جسے 4 اپریل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پولیس ایک اور شخص سے بھی تحقيقات کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق رائیڈر کو سر پر شدید چوٹیں آئی ہیں اور انھیں ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ رائیڈر کے سر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور ایک پھیپھڑا پچک گیا ہے۔

28 سالہ جیسی رائیڈر کو بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل میں کھیلنے کے لیے آنا تھا، جہاں انھوں نے تین لاکھ ڈالر کا معاہدہ کر رکھا ہے۔

رائیڈر ماضی میں بھی شراب کے نشے میں دھت ہو کر دنگوں اور دوسرے قانونی مسائل میں ملوث رہ چکے ہیں۔ اگرچہ جمعرات کے دن ہونے والے حملے سے پہلے وہ شراب پی رہے تھے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ یہ حملہ شراب نوشی کی وجہ سے نہیں ہوا۔

2012 میں رائیڈر کو اس وقت نیوزی لینڈ کی ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا جب انھوں نے زخمی ہونے کے بعد شراب پی کر ٹیم کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی تھی۔

پولیس کے سینیئر سارجنٹ برائن آرچر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ جیسی شدید حملے کا نشانہ بنے ہیں اور اس کے نتیجے میں انھیں سر پر چوٹیں آئی ہیں۔‘

Image caption جیسی رائیڈر نیوزی لینڈ کی قومی ٹیم کے علاوہ مقامی کرکٹ میں ولنگٹن کے لیے کھیلتے ہیں

انھوں نے کہا، ’جیسی کو ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں انھیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے اور ان کی حالت نازک ہے۔ انھیں ڈاکٹروں نے ارادی کوما میں رکھا ہے۔‘

آرچر نے مزید کہا کہ دو یا تین افراد نے کرکٹر پر حملہ کیا، تاہم اس واقعے میں شراب کا عمل دخل نہیں تھا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ رائیڈر کو پڑنے والی ضربوں کی آواز بار کے اندر سے سن سکتے تھے۔ ’جونہی جھڑپ شروع ہوئی تو وہاں چار یا پانچ افراد دوڑ کر گئے اور انھیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا جب کہ جیسی لڑکھڑاتے ہوئے سڑک کی طرف چلے گئے۔‘

پولیس افسر آرچر نے کہا کہ جب رائیڈر سڑک کی دوسری طرف گئے تو ایک شخص نے ان پر دوبارہ حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے میں کوئی ہتھیار استعمال نہیں کیا گیا، اور فی الحال حملے کا مقصد معلوم نہیں ہو سکا۔

رائیڈر کے دوستوں اور ملکی و بین الاقوامی کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے رائیڈر کے لیے بھیجے جانے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ساری کرکٹ ٹیم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم جان کی اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں اس ’منحوس‘ حملے سے صدمہ پہنچا ہے۔