جیسی رائیڈر کی حالت خطرے سے باہر

Image caption ’جیسی کے سر پر لگنی والی چوٹیں اور پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے‘

نیوزی لینڈ کے دارالحکومت کرائسٹ چرچ کے ایک شراب خانے کے باہر دو حملوں میں زخمی ہونے والے کرکٹر جیسی رائیڈر کی حالت میں بہتری آئی ہے۔

ڈاکٹروں نے اس حملے کے تین دن بعد سنیچر کو انہیں ارادتاً دیا گیا ’ کوما‘ ختم کر دیا ہے۔ انہیں سر پر شدید چوٹوں کی وجہ سے کومے میں رکھا گیا تھا۔

جیسی کے مینیجر ایرون کلی کے مطابق وہ تاحال انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہی ہیں تاہم نہ صرف وہ سانس لینے کے لیے وینٹیلیٹر کا استعمال نہیں کر رہے بلکہ انہوں نے کچھ باتیں بھی کی ہیں۔

نیوزی لینڈ کی پولیس نے اس حملے کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے جنہیں آئندہ ہفتے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایرون کلی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسی جاگ رہے ہیں اور ہم سے بات کر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی صحتیابی کی رفتار سے خوش ہیں لیکن ان کے سر پر لگنی والی چوٹیں اور پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔

جیسی رائیڈر حملے کے وقت نیوزی لینڈ کے مقامی ایک روزہ ٹورنامنٹ میں ویلنگٹن کے طرف سے کھیلنے کے لیے کرائسٹ چرچ آئے تھے۔ 28 سالہ جیسی رائیڈر کو بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل میں کھیلنے کے لیے آنا تھا، جہاں انھوں نے تین لاکھ ڈالر کا معاہدہ کر رکھا ہے۔

رائیڈر ماضی میں بھی شراب کے نشے میں دھت ہو کر دنگوں اور دوسرے قانونی مسائل میں ملوث رہ چکے ہیں۔ اگرچہ جمعرات کے دن ہونے والے حملے سے پہلے وہ شراب پی رہے تھے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ یہ حملہ شراب نوشی کی وجہ سے نہیں ہوا۔

2012 میں رائیڈر کو اس وقت نیوزی لینڈ کی ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا جب انھوں نے زخمی ہونے کے بعد شراب پی کر ٹیم کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی تھی۔

اسی بارے میں