شکل پسند نہیں تو کیا ٹیم میں بھی نہیں؟

Image caption مصبا ح الحق آخری پانچ میں سے چار ون ڈے سیریز ہار چکے ہیں

جنوبی افریقہ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سینیئر کھلاڑیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہے۔

کچھ کھلاڑیوں کو کسی ایک فارمیٹ تک محدود کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑا ہے اور کچھ کو گھر بھیجنے کی صدائیں بھی بلند ہوئی ہیں۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مصباح الحق کپتان ہونے کے ناتے دوسروں سے زیادہ تنقید کی زد میں آئے ہیں۔

یہ وہی مصباح الحق ہیں جنہوں نے صرف ایک سال پہلے اس وقت کی عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش پر مجبور کیا تھا تو اس جیت کو ٹیم ورک کا نام دیتے ہوئے ہر کوئی اس میں حصہ دار بنا ہوا تھا لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کے بعد کچھ لوگ مصباح الحق کو اس کا واحد ذمہ دار قرار دیتےہوئے انہیں ٹیم میں دیکھنے کے روادار نہیں ۔

مصباح الحق جنوبی افریقہ میں بحیثیت کپتان اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز ہارے ہیں۔گوکہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ایک صفر کی شکست بھی ریکارڈ بک میں ان کے نام درج ہوئی ہے حالانکہ وہ ایک میچ کی معطلی کی سزا کے سبب اس ٹیسٹ میچ میں نہیں کھیلے تھے جس میں پاکستانی ٹیم کو شکست ہوئی تھی اور کپتانی محمد حفیظ نے کی تھی۔

مصبا ح الحق آخری پانچ میں سے چار ون ڈے سیریز ہار چکے ہیں اور یہی نتائج ان پر تنقید کا اصل سبب بنے ہیں اس کے علاوہ ان کا سست روی سے بیٹنگ کرتے ہوئے میچ کو ’ فنش‘ نہ کرنا بھی ناقدین کو موقع فراہم کرنے کا سبب بنا ہے۔

مصباح الحق نے جنوبی افریقہ کے دورے میں ٹیسٹ سیریز میں ایک نصف سنچری سکور کی جبکہ ون ڈے سیریز میں وہ دو نصف سنچریاں کھیلنے میں کامیاب ہوئے۔

Image caption شاہد آفریدی جو کبھی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے اب ان کے لیے ٹیم میں جگہ بنانا مشکل ہوگیا ہے

تو کیا مصباح الحق واحد بیٹسمین ہیں جو حالیہ سیریز میں بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں؟ اگر اعداد و شمار کی زبانی دوسرے کرکٹرز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے تو ان کی حالت بھی اچھی نہیں کہی جا سکتی۔

یونس خان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ایک سنچری سکور کی لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں انہیں سنچری سکور کیے چار سال چار ماہ ہو چکے ہیں۔

وہ نومبر 2008 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری کے بعد سے اب تک 71 ون ڈے انٹرنیشنل اننگز کھیل چکے ہیں جن میں ان کی13 نصف سنچریاں ہیں۔

شعیب ملک نے 2009 کی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف سنچری کے بعد سے25 اننگز کھیلی ہیں جن میں ایک بھی نصف سنچری نہیں ہے جبکہ آف سپنر کی حیثیت سے ان کا ٹیم میں رول اب بالکل ختم ہو چکا ہے۔

کامران اکمل اس دعوے کے ساتھ ٹیم میں شامل کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ دوسرے وکٹ کیپرز سے کہیں اچھے بیٹسمین ہیں لیکن ورلڈ کپ میں دو نصف سنچریوں کے بعد سے پندرہ اننگز میں وہ ایک بھی نصف سنچری نہیں بنا پائے ہیں۔

ون ڈے میں عمراکمل، اسد شفیق اور اظہرعلی کا ٹیلنٹ دھوپ چھاؤں کی طرح ہے جس نے ٹیم کو مستقل بنیادوں پر کبھی خوشی نہیں دی۔

شاہد آفریدی جو کبھی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے اب ان کے لیے ٹیم میں جگہ بنانا مشکل ہوگیا ہے۔وہ بولر کی حیثیت سے جنوبی افریقہ کے دورے میں شامل کیے گئے تھے لیکن پانچ ون ڈے میچوں میں 37 اوورز میں 210 رنز دے کر وہ ایک بھی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

آفریدی نے گزشتہ سال افغانستان کے خلاف شارجہ میں پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے بعد سے 19 اننگز میں صرف 10 وکٹیں حاصل کی ہیں اور وہ بھی 82 کی بھاری بھر کم اوسط سے۔ ان میں 12 میچز ایسے ہیں جن میں انہیں ایک بھی وکٹ نہیں مل سکی ہے۔

پاکستان کے تقریباً تمام ہی قابل ذ کر سابق ٹیسٹ کرکٹرز وقاریونس، رمیز راجہ ظہیر عباس اور عامرسہیل موجودہ صورتحال میں مصباح الحق کواب بھی قیادت کے لیے موزوں خیال کرتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کا اشرف کی رائے بھی ان سے مختلف نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے مشکل دورے میں مصباح الحق نے قیادت کی ذمہ داری بہتر طور پر نبھائی اور انہیں تبدیل کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔

مصباح الحق سے بی بی سی کے ایک سوال کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر شکست کے بعد آپ کو کپتانی سے ہٹانے یہاں تک کہ ٹیم سے ہی باہر کر دینے کا مطالبہ کر دیا جاتا ہے تو ان کا جواب تھا ’ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو آپ کا چہرہ پسند نہیں ہوتا اور وہ ہر بات کا الزام آپ ہی کے سر ڈال دیتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے‘ ۔

اسی بارے میں