بھارتی باکسر پر منشیات استعمال کرنے کا الزام

وجیندر سنگھ
Image caption وجیندر نے بیجنگ اولمپک میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا

بھارتی ریاست پنجاب کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بیجنگ اولمپک میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے بھارتی باکسر وجیندر سنگھ نےغیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہیروئین کا بارہا استعمال کیا تھا۔

حال ہی میں پولیس نے بڑی مقدار میں ہیروئن برآمد کی تھی اور اس سلسلے میں ایک کینیڈین شہری سمیت 15 افراد کو حراست میں لیا گيا ہے۔

پولیس کے مطابق ان افراد سے پوچھ گچھ سے معلوم ہوا کہ ہیروئن وجیندر سنگھ کو بھی سپلائی کی جاتی تھی لیکن خود وجیندر نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

پنجاب پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق وجیندر نے تقریباً 12 بار اور ان کے دوسرے ساتھی رام سنگھ نے تقریباً پانچ بار ہیروئین کا استعمال کیا۔

کینیڈا کے رہنے والے مبینہ منشیات کے سمگلر كہلو عرف روبی کو پولس نے تین مارچ کو گرفتار کیا تھا اور چنڈی گڑھ کے بیرونی علاقے جرك پر واقع اس کی رہائش گاہ سے تقریباً 130 کروڑ روپے کی ہیروئن ضبط کی گئی تھی۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق مکّے باز رام سنگھ اور وجیندر سنگھ نے دسمبر 2012 سے فروری 2013 کے درمیان كہلو اور اس کے ساتھی ركي سے ذاتی استعمال کے لیے ہیروئن لی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رام سنگھ نے دسمبر 2012 میں تنہا ہی ہیروئین خریدی اس کے بعد دونوں مکّے باز ساتھ مل کر منشیات خریدنے کے لیے جنوری میں ایک بار اور اس سال فروری میں دو بار گئے۔

اطلاعات کے مطابق وجیندر اور ان کے ساتھی رام سنگھ کو كہلو کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مکمل معلومات تھیں۔ پولیس کے مطابق وجیندر کے موبائل سے کئی بار كہلو سے بات چیت بھی ہوئی۔

وجیندر سنگھ نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے تاہم جب پولیس نے وجیندر کے خوان کا نمونہ لینا چاہا تو اولمپک میں تمغہ جیتنے والے اس کھلاڑی نے اپنا بلڈ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنا خون صرف ڈوپنگ ایجنسی کو ہی دیں گے۔

وجیندر سنگھ خود پڑوسی ریاست ہریانہ پولیس میں ڈی ایس پی ہیں۔ انھیں ریاستی حکومت نے یہ ملازمت باكسنگ چیمپیئن ہونے کی وجہ سے دی ہے۔

اسی بارے میں